رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا شام میں زمینی فوجی دستہ تعینات کرنے کا فیصلہ


اوباما انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے بقول امریکی فوجی اہلکار شمالی شام میں سرگرم مقامی باغی دستوں اور داعش کے خلاف عالمی اتحاد کی کارروائیوں کے درمیان رابطے اور ان کارروائیوں کا مزید موثر بنانے کے فرائض انجام دیں گے۔

امریکہ نے شام میں اپنا ایک چھوٹا فوجی دستہ بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے جو وہاں "مشاورت اور معاونت" کے فرائض انجام دے گا۔

اوباما انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے جمعے کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ صدر براک اوباما نے امریکی فوج کی اسپیشل آپریشن فورسز کا ایک چھوٹا دستہ شمالی شام میں تعینات کرنے کی منظوری دیدی ہے جو 50 سے کم اہلکاروں پر مشتمل ہوگا۔

عہدیدار نے بتایا کہ امریکی فوجی اہلکار شمالی شام میں سرگرم مقامی باغی دستوں اور داعش کے خلاف عالمی اتحاد کی کارروائیوں کے درمیان رابطے اور ان کارروائیوں کا مزید موثر بنانے کے فرائض انجام دیں گے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق 'وہائٹ ہاؤس' کی جانب سے خصوصی کارروائیوں کے ماہر امریکی فوجی دستے کی شمالی شام میں تعیناتی کا فیصلہ شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف جاری کوششوں کا حصہ ہے۔

شام میں گزشتہ ساڑھے چار برسوں سے جاری خانہ جنگی کے دوران یہ پہلا موقع ہوگا کہ امریکی فوجی دستہ کسی چھاپہ مار مہم یا مخصوص مشن کے بجائے باقاعدہ اعلانیہ طور پر وہاں تعینات کیا جائے گا۔

اوباما انتظامیہ کے عہدیدار نے مزید بتایا ہے کہ امریکی صدر نے داعش کے رہنماؤں اور نیٹ ورک کو ہدف بنانے کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ایک اسپیشل آپریشن ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز بھی منظور کرلی ہے اور امریکی حکام کو اس معاملے پر عراقی رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ صدر اوباما نے ترکی میں امریکی فوج کے زیرِ استعمال انسرلک کے ہوائی اڈے پر 'اے -10' اور 'ایف-15' جنگی طیاروں کی تعیناتی کی منظوری بھی دیدی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کی داعش کے خلاف حکمتِ عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور شام میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

عہدیدار کے بقول وہائٹ ہاؤس داعش کے خلاف جاری کارروائیوں میں شدت لانے کے لیے مختلف طریقوں پر غور کر رہا ہے اور پہلے سے اپنائی گئی حکمتِ عملی کے ان پہلووں پر مزید توجہ دی جارہی ہے جو بار آور ثابت ہورہے ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکہ کی شام اور عراق میں وہ تمام کارروائیاں نتائج کے اعتبار سے زیادہ بہتر ثابت ہوئی ہیں جو برسرِ زمین موجود مقامی گروہوں کے تعاون سے کی گئیں۔ عہدیدار کے بقول اس تجربے کے بعد امریکہ نے مقامی گروہوں کے ساتھ تعاون کی اپنی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور اب اسے بطور حکمتِ عملی اختیار کیا جارہا ہے۔

اوباما انتظامیہ کی جانب سے شام میں فوجی دستے کی تعیناتی فیصلے کو روس کی جانب سے شام میں فوجی مداخلت کا ردِ عمل بھی قرار دیا جاسکتا ہے جو وہاں رواں ماہ کے آغاز سے صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں حکومت مخالف باغیوں اور داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کر رہا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی روس کی ان کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابلِ قبول قرار دے چکے ہیں۔ امریکی حکام کا موقف ہے کہ روس کے ان فضائی حملوں کا زیادہ تر نشانہ صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالف وہ باغی بن رہے ہیں جنہیں امریکہ اور اس کے اتحادی فوجی تربیت اور معاونت فراہم کرتے رہے ہیں۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ داعش کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافے کے باوجود امریکہ شام کے بحران کے سفارتی حل کی کوششوں میں بھی تیزی لارہا ہے تاکہ وہاں جاری خانہ جنگی کو پرامن اور سیاسی انداز میں ختم کیا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG