رسائی کے لنکس

logo-print

محکمہٴ انصاف کے انسپیکٹر جنرل، مائیکل ہوروٹز نے کہا ہے اِس بات کو دیکھا جائے گا آیا فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ڈائریکٹر، جیمز کومی نےاس معاملے پر سال بھر کی تفتیش کس طرح کی

امریکی محکمہٴ انصاف کی نظرداری پر مامور آزاد تنظیم نے جمعرات کو کہا ہے کہ ادارے کی جانب سے وزیر خارجہ کے طور پر ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی ہیلری کلنٹن کے نجی اِی میل سرور کے بارے میں کی جانے والی تفتیش کے معاملے کی جانچ پڑتال کرے گا۔ یہ معاملہ گذشتہ سال کی صدارتی انتخابی مہم کا سب سے بڑا متنازع معاملہ تھا، جس میں کلنٹن کو شکست ہوئی۔

محکمہٴ انصاف کے انسپیکٹر جنرل، مائیکل ہوروٹز نے کہا ہے اِس بات کو دیکھا جائے گا آیا فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ڈائریکٹر، جیمز کومی نےاس معاملے پر سال بھر کی تفتیش کس طرح کی؛ جو 2009ء سے 2013ء تک ملک کی اعلیٰ ترین سفارت کار رہیں، اور جنھوں نےملک کی پہلی خاتون صدر بننے کی مہم چلائی۔

کومی نے کہا تھا کہ کلنٹن کی جانب سے اپنے اِی میل سرور پر کلاسی فائیڈ مواد کو نمٹانے میں ’’انتہائی لاپرواہی‘‘ کا مظاہرہ کیا گیا؛ پھر انتخابات سے چار ماہ قبل اُنھوں نے کسی مجرمانہ غفلت برتنے کی تردید کی۔ لیکن، کومی نے 8 نومبر سے کچھ ہی روز قبل، تفتیش کے معاملے کو پھر سے اٹھایا، اور انتخابات کے صرف دو ہی روز قبل کہا کہ کسی نئی بات کا پتا نہیں چلا۔

کلنٹن نے باضابطہ انتخابی دِن سے 11 روز قبل چھان بین کےمعاملے کو پھر سے اٹھائے جانے کو، جب کہ لاکھوں ووٹر قبل از وقت ووٹ دے چکے تھے، ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ سے شکست کا ایک کلیدی عنصر قرار دیا، جو جائیداد کے ایک ارب پتی شخص سے سیاست دان بنے اور اگلے ہفتے ملک کے 45 ویں صدر کے طور پر عہدہ سنبھالنے والے ہیں۔

امریکہ بھر میں، ٹرمپ کے مقابلے میں کلنٹن کو تقریباً 30 لاکھ معروف ووٹوں کی برتری تھی، لیکن امریکی انتخابی نظام کی رو سے وہ صدر منتخب نہ ہوسکیں، چونکہ الیکٹورل کالج ہی اس کا فیصلہ کرتا ہے، جس کا دارومدار ریاستوں کے لیے طے الیکٹورل ووٹوں پر ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG