رسائی کے لنکس

logo-print

ایران سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو امریکہ کا انتباہ


ایران کے تیل کے پیداواری یونٹ سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں (فائل فوٹو)

امریکہ نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر ایران سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو دی گئی چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی طرف سے تیل کی برآمد کو انتہائی محدود کرتے ہوئے ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ اقدام کرتے وقت ایسا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جس سے دنیا بھر کی منڈیوں میں تیل کی فراہمی کی مطلوبہ سطح برقرار رہے اور اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی سیکورٹی کے مفادات کا تحفظ بھی کیا جا سکے۔

اُنہوں نے کہا کہ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو ایرانی تیل کے بجائے متبادل ذرائع سے تیل حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے اور وہ اس معاملے میں اُن کا بھرپور ساتھ دے گا۔ اس سلسلے میں امریکہ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ تیل کی مطلوبہ پیداوار برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکہ نے ایران سے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران سے تیل کی درآمد روک دیں بصورت دیگر ان ممالک کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خام تیل کی قیمت 3.2 فیصد اٖضافے کے بعد 74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو یکم نومبر کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کی ٹیم پر واضح کر دیا تھا کہ وہ یہ چھوٹ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ جب کہ قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اس معاملے پر کام کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے 2015 میں یک طرفہ طور پر ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ختم کر کے ایران سے خام تیل کی درآمد سمیت دیگر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ تاہم گزشتہ سال نومبر میں آٹھ ممالک کو چھ ماہ تک ایرانی تیل درآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔

ان ممالک میں چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، یونان، اٹلی، ترکی اور تائیوان شامل تھے۔

اطلاعات کے مطابق سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے یہ اعلان متوقع ہے جس کے تحت دو مئی کو ایرانی تیل کی درآمد پر مکمل پابندی عائد ہو جائے گی۔

دو اپریل کو امریکہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ فرینک فینن نے واضح کیا تھا کہ امریکہ ایران سے تیل کی درآمد کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے۔

ایشیائی ممالک متاثر ہوں گے

چین اور بھارت ایران سے تیل درآمد کرنے والے بڑے خریدار ہیں۔ یہ دونوں ممالک تیل کی درآمد کے معاملے میں توسیع کرانے کے لیے لائبنگ کر رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ کا اتحادی ملک جنوبی کوریا بھی اس پابندی سے شدید متاثر ہو گا جس کی صنعت کا بڑا حصہ ایرانی خام تیل پر انحصار کرتا ہے۔

ترک صدر کے ترجمان ابراہیم کلن کا منگل کو ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ امریکہ انقرہ کو ایران سے تیل کی درآمد جاری رکھنے کی اجازت دے دے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG