رسائی کے لنکس

داعش کے ہاتھوں اذیت سہنے والے عراقیوں کی امریکہ میں آبادکاری


فائل

امریکی محکمہ خارجہ اور کینیڈا 'اِمی گریشن' کی وزارت کے وفود نے دستمبر کے اوائل میں شمالی عراق کا دورہ کیا۔ اُنھوں نےبلدیاتی حکومت کے اہل کاروں اور امدادی گروپوں کےساتھ ملاقات کی، جس کا مقصد اس نئے پروگرام کے تحت متاثرین کی شناخت کرنا تھا۔ اِن میں سے زیادہ تر یزیدی اور مسیحی ہیں

حکومتِ امریکہ اُن سینکڑوں عراقیوں کی مستقل آبادکاری پر کام کر رہا ہے، جو داعش کے شدت پسندوں کے ہاتھوں متاثر ہوئے۔

لیری بارلے محکمہ خارجہ میں تارکینِ وطن کو داخلےکی اجازت دینےپر مامور دفتر کی سربراہ ہیں۔ اُنھوں نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ امریکہ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین سے رابطے میں ہے، جب کہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ایسے عراقیوں کو ملک کےکئی طے شدہ مقامات پر بسایا جائے۔ اِن میں سے زیادہ تر یزیدی اور مسیحی ہیں، جن برادریوں کو دولتِ اسلامیہ نے اکھاڑ پھینکا ہے۔

اِن میں سے زیادہ تر کو داعش کے ہاتھوں مظالم اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

بارلے نے کہا کہ ''اس کے لیے شرط یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ ہوں جنھیں غلام بنائے جانے کا ڈر تھا۔ دیکھا یہ جائے گا کہ ایسے خاندان جن کو ہلاکت درپیش تھی؛ اور ہمیں پتا ہے کہ اِن میں سے بہت سوں کو اُن کے اہل خانہ کی موجودگی میں صعوبتیں دی گئیں''۔

پھر سے بسانے کی یہ کوشش ایسے عراقیوں کے لیے کی جا رہی ہے جو داعش کی اذیت برداشت کر چکے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں سنہ 2014 کے وسط میں دولت اسلامیہ منظر عام پر آئی۔ 'سینٹر فور امریکین پروگریس' کے مطابق، جنوری 2014 سے اکتوبر 2016ء تک امریکہ نے شام کی خانہ جنگی اور داعش کے ہاتھوں اذیت سہنے والے 15583 شامی مہاجرین کو ملک میں بسانے کا انتظام کیا۔

طبی اور دیگر پروگراموں کے تحت چند عراقی امریکہ پہنچے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ اور کینیڈا کی 'اِمی گریشن' کی وزارت کے وفود نے دستمبر کے اوائل میں شمالی عراق کا دورہ کیا۔ اُنھوں نےبلدیاتی حکومت کے اہل کاروں اور امدادی گروپوں کے ساتھ ملاقات کی، جس کا مقصد اس نئے پروگرام کے تحت متاثرین کی شناخت کرنا تھا، تاکہ اُنھیں نئے سرے سے آباد کیا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG