رسائی کے لنکس

logo-print

صدر کا تجارتی مذاکرات کا اختیار، ایوانِ نمائندگان میں بِل منظور


ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کی اکثریت نے اس کی مخالفت کی۔ اُنھیں اِس بات کا خوف لاحق ہےکہ کوئی بھی سمجھوتا طے پاتا ہے تو مزدوری پر اٹھنے والی لاگت کو کم کرنے کی غرض سے، امریکی کاروباری ادارے روزگار کے مواقع بیرون ملک منتقل کر سکتے ہیں

ریپبلیکن پارٹی کی اکثریت والے امریکی ایوان نمائندگان نے پانچ سال سے جاری مذاکرات کے بعد،جمعرات کو بحرالکاہل کے 11 ملکوں سے تجارتی معاہدوں کے حوالے سے صدر براک اوباما کے تیزی سےاقدام لینے کے اختیارات کی منظوری دے دی ہے۔ بِل کے حق میں 218 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

ووٹ کا مقصد یہ ہے کہ کانگریس حتمی سمجھوتے کو تسلیم یا مسترد کر سکتی ہے، لیکن اُسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

ووٹنگ کے وقت، ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کی اکثریت نے اس کی مخالفت کی۔ اُنھیں اِس بات کا خوف لاحق ہےکہ کوئی بھی سمجھوتا طے پاتا ہے تو مزدوری پر اٹھنے والی لاگت کو کم کرنے کی غرض سے، امریکی کاروباری ادارے روزگار کے مواقع بیرون ملک منتقل کر سکتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے، ایوان کے ڈیموکریٹس نے ایک علیحدہ بل کو منظور نہیں ہونے دیا تھا جس کی ایک شق مین یہ شامل تھا کہ ایسے امریکی کارکنوں کو امداد فراہم کی جاسکتی ہے جن کا روزگار ختم ہو چکا ہے، کیونکہ اُن کے مالکان نے روزگار کے مواقع بیرون ملک منتقل کر دیے ہیں۔

اس نئے اقدام میں روزگار فراہم کرنے میں مدد کی کوئی شق شامل نہیں، لیکن ٹریڈ اتھارٹی بِل کو ابھی سینیٹ سے منظوری ملنا باقی ہے۔

XS
SM
MD
LG