رسائی کے لنکس

logo-print

شامی باغیوں کو تربیت دینے کی تیاری شروع کردی، امریکہ


چک ہیگل نے صحافیوں کو بتایا کہ تربیت کے لیے باغیوں کے انتخاب کا کام امریکی فوج، سفارت کار اور انٹیلی جنس امور کے ماہرین انتہائی احتیاط سے انجام دے رہے ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف صدر براک اوباما کی اعلان کردہ حکمتِ عملی کے تحت شام کے باغیوں کو تربیت فراہم کرنے کے لیے امریکی فوجی ٹیمیں سعودی عرب پہنچا شروع ہوگئی ہیں۔

جمعے کو امریکی محکمۂٖٖ دفاع پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے بتایا کہ باغیوں کی تربیت کے لیے انتظامات کا جائزہ لینے کے ابتدائی ٹیمیں سعودی عرب پہنچ چکی ہیں۔

چک ہیگل نے صحافیوں کو بتایا کہ تربیت کے لیے باغیوں کے انتخاب کا کام امریکی فوج، سفارت کار اور انٹیلی جنس امور کے ماہرین انتہائی احتیاط سے انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تربیت حاصل کرنے والے اپنی تنظیم کی تشکیل اور قیادت کا انتخاب خود کریں گے اور اس بارے میں انہیں کوئی ہدایات نہیں دی جائیں گی۔

جناب ہیگل نے صحافیوں کو بتایا کہ پیر سے اب تک امریکہ اور اس کے عرب اتحادیوں نے شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں اور جنگجووں پر 43 حملے کیے ہیں جب کہ عراق میں شدت پسندوں پر امریکی فرانسیسی طیاروں کے حملوں کی تعداد 200 سے تجاوز کرگئی ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف مغربی ملکوں کی کارروائی کے لیے آئندہ ہفتہ انتہائی اہم ہے ۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ شدت پسندوں کو شکست دینے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی طویل لڑائی کے لیے تیار رہیں۔

پریس کانفرنس میں چک ہیگل کے ہمراہ موجود امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف لڑائی کو تیزی سے انجام دینے کے بجائے ضروری ہے کہ اسے صحیح طریقے سے انجام دیا جائے۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ کانگریس نے امریکی فوج کو صرف پانچ ہزار شامی باغیوں کو تربیت دینے کی اجازت دی ہے جب کہ فوج کا خیال ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں موجود شام کے مشرقی علاقوں کا قبضہ چھڑانے کے لیے 12 سے 15 ہزار باغیوں کی ضرورت ہوگی۔

XS
SM
MD
LG