رسائی کے لنکس

یمن کو ہنگامی بنیادوں پر امداد فراہم کی جائے: امریکہ


صنعا (فائل)

امریکہ نے یمن کو خوراک اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسد کی فراہمی پر زور دیا ہے، جس میں نئے کرین تعمیر کرنا بھی شامل ہے، تاکہ حدیدہ کی بندرگاہ پر سمندری جہازوں سے سامان اتارا جا سکے۔

سعودی عرب نے گذشتہ ماہ یمن کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی عائد کی تھی، جب حوثی باغیوں نے مشتبہ ایرانی ساختہ میزائل ریاض کے ہوائی اڈے کے قریب گرایا تھا۔

ناکہ بندی کے نتیجے میں مشکلات کے شکار لوگوں تک امداد نہیں پہنچ پا رہی ہے، جن ضروریات میں اسپتالوں اور پانی صاف کرنے والی تنصیبات کے جنریٹروں کو چلانے کے لیے درکار ایندھن بھی شامل ہے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کی ترجمان، ہیتھر نوئرٹ کا کہنا ہے کہ گذشتہ نومبرکے اواخر سے حدیدہ کو سمندری جہازوں کے ذریعے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یا کاروباری رسد کی نوعیت کا سامان نہیں پہنچ پایا۔

معاون وزیر خارجہ جان سلیوان اور بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے کے سربراہ مارک گرین نے گذشتہ ہفتے یمن کی صورت حال کے معاملے پر اقوام متحدہ اور امداد کی فراہمی کے دیگر حکام سے ملاقات کی۔

سلیوان نے کہا ہے کہ یمن میں طویل المدتی استحکام کے حصول کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے سیاسی حل۔

گرین نے کہا کہ امریکہ ’’اس انسانی بحران سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے‘‘، جس سلسلے میں ٹرمپ انتظامیہ نے یمن کے لیے ہنگامی بنیادوں پر خوراک کی امداد کی فراہمی کے لیے مزید 13 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

سعودیوں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے یمن کی امداد کے لیے بڑی رقوم فراہم کی ہیں، لیکن یہ اُن علاقوں میں میسر نہیں جو حوثیوں کے زیر کنٹرول ہیں۔ اُنھوں نے باغیوں پر خوراک اور ادویات چرا کر بیچنے کا الزام لگایا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG