رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ کے لیے 'متفقہ شخص' کا انتخاب کیا جائے: جو بائیڈن


سینیٹ کے کئی ریپبلکن ارکان نے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے اوباما کو جسٹس اسکالیا کی وفات سے خالی ہونے والی آسامی پر کرنے کے لیے کسی کو بھی نامزد نہیں کرنا چاہیئے۔

امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ صدر اوباما سپریم کورٹ کے آنجہانی جج انٹونن اسکالیا کی جگہ کسی ’’لبرل ترین قانون دان‘‘ کا انتخاب نہیں کر سکتے جس سے پہلی مرتبہ اس معاملے پر وائٹ ہاؤس کی حکمت عملی کا اشارہ ملا ہے۔

انہوں نے منیسوٹا پبلک ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہائی کورٹس میں پہلے ہی بہت سے جج ہیں جنہیں ریپبلکن ارکان کی متفقہ حمایت حاصل ہے۔ یہ ایسا شخص ہونا چاہیئے جس پر درحقیقت اتفاق رائے ہو اور اس طرح ہم ایسے شخص کی نامزدگی منظور کرانے کے لیے کافی حمایت حاصل کر سکیں گے۔‘‘

سینیٹ کے کئی ریپبلکن ارکان نے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے اوباما کو جسٹس اسکالیا کی وفات سے خالی ہونے والی آسامی پر کرنے کے لیے کسی کو بھی نامزد نہیں کرنا چاہیئے۔

ان کا خیال ہے کہ یہ کام اگلے صدر کو کرنا چاہیئے جو جنوری 2017 میں اپنا عہدہ سنبھالے گا۔

سینیٹ کے ایجنڈے کا فیصلہ کرنے والے ریپبلکن قائد اکثریت مِچ مکونل نے کہا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے لیے نئی نامزدگی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیں گے۔

تاہم صدر اوباما نئی تقرری پر کام کر رہے ہیں۔ اس سے قبل جمعرات کو ہی وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا تھا کہ اوباما اپنی انتظامیہ کے اعلیٰ ارکان سے بات چیت کر رہے ہیں اور جلد ہی کسی کو نامزد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا حالیہ تاریخ میں سپریم کورٹ میں کوئی آسامی اتنی دیر تک خالی نہیں رہی۔ ’’اس لیے صدر جلد ہی اس پر کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ امریکی سینیٹ میں بھی جلد ان کی طرف سے نامزد کیے گئے فرد کی تقرری پر منصفانہ سماعت اور بروقت ہاں یا نا میں ووٹ دیا جا سکے۔‘‘

صدر کے الفاظ کو دہراتے ہوئے جوش ارنسٹ نے کہا کہ سینیٹ نئے نامزد جج کی تقرری پر غور کرنے کی پابند ہے۔

جسٹس اسکالیا کی جگہ نئے جج کی تقرری بڑے پیمانے پر سیاسی رسہ کشی کا باعث بن گئی ہے۔

جسٹس اسکالیا کے فیصلوں سے اکثر قدامت پسند افراد مطمئن ہوتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد اس وقت عدالت عظمیٰ میں چار قدامت پسند اور چار لبرل جج موجود ہیں جس کا مطلب ہے کہ اگلے جج کی تقرری سے سپریم کورٹ میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

XS
SM
MD
LG