رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: 57 سال کی عمر میں خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش


امریکہ میں ایک خاتون نے اپنی 13 سالہ بیٹی کو کھو دینے کے بعد 57 برس کی عمر میں ایک بچے کو جنم دیا ہے۔

ریاست نیو ہیمپشر کے شہر کونکورڈ سے تعلق رکھنے والی باربرا ہیگنز اور ان کے 65 سالہ شوہر کینی بین زوف کے ہاں بچے کی پیدائش ان وٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) کے ذریعے ہوئی۔

اس طریقۂ کار کو قدرتی عمل کے قریب ترین سمجھا جاتا ہے جس میں جدید طریقے سے لیبارٹری میں تولیدی عمل کا آغاز کیا جاتا ہے تاکہ دورانِ حمل کسی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

اس معمر خاتون نے ایسے وقت میں بچے کو جنم دیا جب سال 2016 میں ان کی تیرہ سالہ بیٹی مولی برین ٹیومر کے باعث انتقال کرگئی تھی۔ جوڑے کی ایک بڑی بیٹی بھی ہے۔

برین ٹیومر کے باعث اپنی بیٹی کو کھو دینے والے جوڑے نے حالیہ برسوں میں بوسٹن میں وٹرو فرٹیلائزیشن کلینک سے رجوع کیا، جس کے بعد ہفتے کو خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی۔

حمل سے قبل باربرا ہیگنز میں بھی برین ٹیومر کی تشخیص ہوئی تھی، جسے بعد ازاں ختم کر دیا گیا تھا۔

ہیگنز کے علاوہ ان کے 65 سالہ شوہر گردے کے مرض میں مبتلا تھے اور ان کا ٹرانس پلانٹ بھی ہوا تھا۔

خاتون کے ہاں ہفتے کو پیدا ہونے والے بچے کا نام جیک رکھا گیا ہے۔ پیدائش کے وقت بچے کا وزن پانچ پاؤنڈ، تیرہ اونس تھا۔

بچے کی پیدائش سے قبل مقامی اخبار 'کونکورڈ مانیٹر' سے گفتگو میں خاتون نے کہا تھا کہ وہ ڈری ہوئی اور فکر مند ہیں لیکن ساتھ ہی وہ پرجوش بھی ہیں۔

ہائی اسکول ٹریک کوچ رہنے والی ہیگنز کا کہنا تھا کہ لیبر روم میں جانے سے قبل تک انہوں نے ویٹ ٹریننگ کی تھی۔

امریکی اخبار 'دی واشنگٹن پوسٹ' کے مطابق 57 سال کی عمر میں بچے کو جنم دے کر باربرا ہیگنز نے ریاست کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

اگرچہ مقامی اسکول کی سابق بورڈ رکن ہیگنز نے 57 برس کی عمر میں بچے کو جنم دیا ہے۔ تاہم یہ جوڑا اپنی بیٹی مولی کے بچھڑنے پر اب بھی غم زدہ ہے۔

گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے مطابق ادھیڑ عمر میں بچوں کو جنم دینے کا ریکارڈ اسپتانوی خاتون ماریا ڈیل کارمن کے پاس ہے جنہوں نے 2006 میں 66 سال کی عمر میں جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG