رسائی کے لنکس

مظفرآباد: امریکی اعانت سے صحت کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کا منصوبہ

  • روشن مغل

پاکستانی کشمیر کے 10 اضلاع میں منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ہسپتالوں اور صحت مراکز کے عملے کی تربیت کے لیے ورکشاپ منعقد کی جا رہی ہیں

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں طبعی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے ’ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم‘ شروع کیا گیا ہے۔ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے تعاون سے محکمہٴ صحت عامہ کی طرف سے شروع کے گئے اس منصوبے کے تحت گاؤں، قصبہ، تحصیل اور ضلع کی سطح پر قائم صحت مراکز اور ہسپتالوں میں علاج معالجے اور بیماریوں کی علاقائی سطح کی تفصیلات ریاستی اور وفاقی سطح پر دستیاب کی جائین گی۔

اس کے نتیجے میں امراض کی تشخیص، اعداد و شمار کے حصول اور ادویات کی فراہمی کے علاوہ ہنگامی صورتِ حال سے عہدہ برا ہونے کا عمل بہتر ہوگا۔

پاکستانی کشمیر کے 10 اضلاع میں منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ہسپتالوں اور صحت مراکز کے عملے کی تربیت کے لیے ورکشاپ منعقد کی جا رہی ہیں۔

تربیت فراہم کرنے والے امریکہ میں قائم ادارے، ’جے ایس آئی ریسریچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹوٹ‘ کے معاون، ڈاکٹر مرسلین نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم کی بنیاد پر علاج کی بہتر سہولتیں مہیا کی جا سکتی ہیں۔

’جے ایس آئی انسٹیٹوٹ‘ کی پروگرام آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم، خفضہ یونس نے سرکاری ہسپتالوں کے عملے کی تربیت کی افادیت کے بارے میں بتایا کہ صحیح اعداد و شمار کی فراہمی سے علاج مالجے کے بہتر مواقع مہیا کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستانی کشمیر کے محکمہٴ صحت کے سٹیٹسٹکس آفیسر، ڈاکٹرخواجہ منظور احمد نے بتایا کہ ’ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سسٹم‘ مریضوں کو علاج معالجے کی سہولتیں بر وقت مہیا کر نے کئے کلیدی حثیت رکھتا ہے۔

پاکستانی کشمیر کے محکمہٴ صحت عامہ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر برائے جہلم ویلی، فاروق اعوان اس نظام کے نفاذ سے امراض کی بہتر تشخیص اور وسائل کی فراہمی کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ بالخصوص، دیہی علاقوں کے رہنے والوں کو بیماریوں اور ادویات کے حوالے اعداد و شمار کی فراہمی کی بنیاد پرعلاج کی زیادہ سہولتیں میسر ہون گی۔

خیال رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اکثر مریضوں اور انکے لواحقین کی طرف سے سرکاری شفاخانوں میں علاج معالجے کی بہتر سہولتیں اور ادویات دستیاب نہ ہو نے کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں اور حکام کی طرف سے اس کا سبب فنڈز کی کمی بتائی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG