رسائی کے لنکس

logo-print

تلاشی دینے سے انکار کرنے والا پارلیمانی وفد پاکستان واپس پہنچ گیا


امریکہ کے ایک ہوائی اڈے پر خصوصی اسکرینگ ”مشینوں سے مکمل جسمانی تلاشی “ کرانے سے انکار کرنے والے پاکستانی اراکین پارلیمنٹ کا وفد اپنا دورہ منسوخ کر کے پیر کو وطن واپس پہنچ گیا ہے ۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں ”فاٹا“سے تعلق رکھنے والے چھ اراکین سینٹ و قومی اسمبلی کے وفد میں شامل رکن قومی اسمبلی اخونزادہ چٹان نے وطن واپسی پروائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں اس دورے کی دعوت امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے دی گئی تھی اور روانگی سے قبل اُنھیں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی اُن کو تلاشی کے خصوصی عمل سے نہیں گزارا جائے گا۔ پاکستانی وفد میں دو اراکین سینٹ جب کہ چارارکان قومی اسمبلی شامل تھے۔

اخونزادہ چٹان نے بتایا کہ 28 فروری کوامریکہ پہنچنے کے بعد وفد میں شامل اراکین پارلیمان کی معمولی سکیورٹی چیکنگ کی گئی اور اُنھوں نے امریکہ میں چھ روزہ قیام کے دوران پاکستان اور افغانستان کے امریکہ کے خصوصی ایلچی رچر ڈ ہالبروک اور سینیٹر لوگر سمیت متعدد اعلیٰ امریکی عہدیداروں ملاقات کی۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ جب وہ واشنگٹن سے ایک دوسری امریکی ریاست جانے کے لیے ہوائی اڈے پر پہنچے تو اُنھیں خصوصی تلاشی کے عمل سے گزرنے کے لیے کہا گیا جس پر اُن کے بقول وفد کے تما م اراکین نے اس سے انکار کرتے ہوئے اپنا دورہ منسوخ کرکے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔

رکن قومی اسمبلی نے بتایا کہ جب اُنھوں نے اپنادورہ امریکہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تو رچر ڈہالبروک کے ایک نمائندے اور امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیداروں نے اُن سے رابطہ کیا لیکن وہ واپسی کا فیصلہ کرچکے تھے ۔ اُنھوں نے مزید بتایا کہ اب حکومت پاکستان اور دفتر خارجہ کو امریکہ حکام کو یہ باور کرانا چاہیئے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اُس کا قریبی اتحادی ہے اور یہ مطالبہ بھی کرنا چاہیئے کہ پاکستان کا نام اُن ممالک کی فہرست سے نکالا جائے جن کے شہریوں کو خصوصی تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑتاہے۔

گذشتہ دسمبر کو کرسمس کے موقع پر ایمسٹرڈیم سے امریکی شہر ڈیٹرائٹ جانے والی پرواز کو نائجیریاسے تعلق رکھنے والے مشتبہ شدت پسند کی جانب سے تباہ کرنے کی ناکام کوشش کے بعدامریکہ نے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کرنے اور مکمل جسمانی تلاشی کے لیے اسکینگ کا جامع طریقہ کار متعارف کروانے کا فیصلہ کیا اور 14 ممالک پر مشتمل اُس فہرست میں پاکستان کو بھی شامل کردیا گیا جن ممالک سے امریکہ آنے والوں کوتلاشی کے اس خصوصی عمل سے گزرنا پڑے گا۔

پاکستانی حکومت اس فیصلے پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے امریکی حکومت سے پہلے ہی اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرچکی ہے۔

XS
SM
MD
LG