رسائی کے لنکس

logo-print

اٹل بہاری واجپائی پاک بھارت امن کے حامی تھے


ممبئی میں آنجہانی واجپائی کے لیے خراج عقیدت

بھارت کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے اٹل بہاری واجپائی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بانی رکن تھے اور پاکستان و بھارت کے درمیان معمول کے تعلقات کے حامی تھے۔ انہوں نے اپنی پہچان سیاسی مدبر کے طور پر بنائی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بھی واجپائی کو ناصرف پسند کیا جاتا تھا بلکہ اور ان کا احترام بھی کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستانہ تعلقات اورخطے کے امن و استحکام کے لئے اٹل بہاری واجپائی نے صرف باتیں نہیں کیں، بلکہ عملی طور پر کوششیں بھی کیں، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ’دوستی بس سروس‘، ’سمجھوتہ ایکسپریس‘ ٹرین سروس کا آغاز نمایاں ہے۔

ترانوے سالہ اٹل بہاری واجپائی کے انتقال کی خبر ٹوئٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بن گئی۔ پاکستان کی نمایاں شخصیات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر واجپائی کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مسلم لیگ نون کے رہنما مشاہد حسین نے کہا ہے کہ ’’دوسرے بھارتی رہنما امن کی صرف باتیں کرتے ہیں، لیکن واجپائی کے پاس ویژن اور ’واک دا ٹاک‘ کی جرات تھی۔ انیس سواٹھانوے میں نیوکلیئر دھماکوں کے بعد انہوں نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ دونوں ملکوں کو نئی حقیقتوں کے ساتھ نئے آغاز کی ضرورت ہے۔ اسی لئے وہ پاکستان آئے اور مینار پاکستان بھی گئے۔

مصنفہ و صحافی، مہر تارڑ نے ٹوئٹ میں کہا ’’اٹل بہاری واجپائی صاحب ۔۔وہ بھارتی وزیر اعظم جو صدائے سرحد بس میں بیٹھ کر لاہور آئے اور دوستی کا پیغام لائے۔ واجپائی صاحب کے خاندان کے ساتھ اظہار تعزیت۔‘‘

حکومت پاکستان کی دعوت پر اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی 1999میں نئی دہلی اور لاہور کے درمیان شروع کی گئی دوستی بس سروس میں بیٹھ کر پاکستان آئے اور واہگہ بارڈر سے سرحد عبور کی جہاں پاکستانی ہم منصب نواز شریف ان کے استقبال کو موجود تھے۔

دورہٴ لاہور میں اٹل بہاری واجپائی مینار پاکستان، علامہ اقبال کے مزار، گوردوارہ ڈیرہ صاحب اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی بھی گئے۔

واجپائی نے پاک بھارت تعلقات کی بہتری اور دونوں ملکوں کے مسائل کا متفقہ حل ڈھونڈنے کے لئے معاہدہ بھی کیا جسے ’معاہدہ لاہور‘ کہا جاتا ہے۔

واجپائی نے 2001 میں تعلقات کی بحالی کی کوشش کے طور پر 2001 میں جنرل پرویز مشرف کو آگرہ میں مذاکرات کی دعوت دی، جس کے بعد سابق صدر مشرف نے آگرہ کا دورہ کیا جو تاریخی ثابت ہوا۔

سال2004 میں اٹل بہاری واجپائی نے ایک بار پھر پاکستان کا دورہ کیا جس کا مقصد 12ویں سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کرنا تھا۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو میں اٹل بہاری واجپائی کا کہنا تھا کہ تمام حل طلب امور کے لئے پاکستان اور بھارت کو بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے۔

انہوں نے اس وقت کے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کو بڑا لیڈر بھی قرار دیا تھا۔

سابق پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے اٹل بہاری واجپائی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واجپائی انقلابی اور اچھے انسان تھے۔

اٹل بہاری واجپائی کی موت پر بھارت میں 22 اگست تک سات روز کا سوگ ہے اور قومی پرچم سرنگوں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG