رسائی کے لنکس

logo-print

ویٹیکن: پوپ کا مفاہمت اور تنازعات کے خاتمے پر زور


پوپ نے کہا کہ وہ اس بات کے دعاگو ہیں کہ عالمی ادارہ شام کے تنازع کے خاتمے اور انسانی مشکلات دور کرنے میں کامیاب ہو

وٹیکن سٹی کی سینٹ پیٹرز بسلیکا میں کرسمس کے موقعے پر لاکھوں زائرین کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، پوپ فرینسس نے پریشان حال برادریوں کے درمیان مفاہمت پر زور دیا ہے۔

پوپ بسلیکا کی وسطی بیرونی بالکنی میں کھڑے تھے اور اُن کا رُخ سینٹ پیٹرز اسکوائر میں نیچے موجود لاکھوں کے اجتماع کی جانب تھا۔ پوپ نے یہ بات اپنے روایتی ’اُربی ات اوربی‘ (شہر اور تمام عالم کے لیے) اپنے پیغام میں کہی۔

ایسے وقت جب اس سال داعش کے شدت پسند گروپ کی کارروائیاں زوروں پر ہیں اور مشرق وسطیٰ سے مہاجرین ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں، افریقہ فرقہ وارانہ تنازع کا شکار ہے، مغربی پورب اور امریکہ میں دہشت گرد حملے ہوئے ہیں، اور تنازعے اور شدت پسند کارروائیوں اور معاشی بدحالی سے بیزار آکر متاثرین تحفظ اور استحکام کی تلاش میں انسانی بنیادوں پر امیر ملکوں کی جانب ہجرت کر رہے ہیں، پوپ کے پیغام کی اپیل آفاقی اہمیت کی حامل ہے۔

اُنھوں نے تنازع والے مقامات پر امن کی بحالی کا مطالبہ کیا، جیسا کہ اسرائیل اور فلسطینی علاقے، اور لوگوں سےکہا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے پیش آئیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ اس بات کے دعاگو ہیں کہ عالمی ادارہ شام کے تنازع کے خاتمے اور انسانی مشکلات دور کرنے میں کامیاب ہو۔

انھوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ لیبیا، عراق، یمن اور افریقی ریگستان میں جاری زیادیوں کےخاتمے کے لیے کام کرے۔

پاپائے روم نے مصر، لبنان، فرانس، مالی اور تیونس میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی جانب دھیان مبذول کرایا۔ اُنھوں نے اِن دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والوں کو ’آج کے شہید‘ قرار دیا۔

اُنھوں نے جمہوریہ کانگو، برونڈی اور جنوبی سوڈان کے عوام کے لیے امن اور یگانگ کے ماحول کے لیے دعا کی؛ اس توقع کے ساتھ کہ مکالمے کے نتیجے میں باہمی سمجھ بوجھ کی راہ نکلے گی۔

XS
SM
MD
LG