رسائی کے لنکس

logo-print

پُرتشدد انتہا پسندی فتنہ ہے، مداوا مثبت اندازِ فکر: کیری


’کامیابی کے لیے ایک مثبت اور پیش اقدامی پر مبنی نصب العین چاہیئے، جو ایسی دنیا کا متبادل ہو جس کی بنیاد پُرتشدد انتہاپسندی کی فتنہ انگیزی و بربادی کا انداز ہے۔۔۔۔ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کو پُرامن کمیونٹیز کی طاقت دکھائی جائے‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا چیلنج پُرتشدد انتہا پسندی ہے، جس میں کامیابی کے لیے، بقول اُن کے، ’دنیا کی پُرامن برادریوں کو طاقت دکھانے‘ کی ضرورت ہے۔

اُنھوں نے یہ بات اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ میں شایع ہونے والے ایک مضمون میں کہی ہے۔

کیری، جو اِس وقت پُرتشدد انتہا پسندی کے انسداد پر واشنگٹن میں جاری سہ روزہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، تحریر کیا ہے کہ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کو پُرامن کمیونٹیز کی طاقت دکھائی جائے، بجائے انتہاپسندی پر مبنی تشدد کی بربادی کی راہ کے۔

’کامیابی کے لیے ایک مثبت اور پیش اقدامی پر مبنی نصب العین چاہیئے، جو ایسی دنیا کا متبادل ہو جس کی بنیاد پُرتشدد انتہاپسندی کی فتنہ انگیزی و بربادی کا انداز ہے‘۔

بقول اُن کے، کامیابی سے ہم کنار ہونے کے لیےلاس انجلیس سے لاگوس، پیرس سے پشاور اور بگوٹا سے بغداد جاری اس کاوش کی باگ ڈور سنبھالنا ضروری ہے، کیونکہ دہشت گرد خلا میں نہیں بستے‘۔

کیری کا کہنا تھا کہ ’تاریخ کے ابواب میں خطرات ایک ہی قسم کی حرکات کا شاخسانہ ہیں، وہ ہیں: جارحیت، قتل عام، خلفشار اور آمریت‘۔

اُنھوں نے کہا کہ آج ہمیں ایک نئے دشمن کے خلاف ایک نئی لڑائی لڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔ میدان جنگ مختلف ہے۔ اور ضروری ہے کہ دشمن پر حاوی پانے اور فتح حاصل کرنے کے لیے مختلف نوع کے ہتھیار اٹھائے جائیں۔

XS
SM
MD
LG