رسائی کے لنکس

بالی: آتش فشاں سے راکھ نکلنے کا سلسلہ جاری


بالی کے ماؤنٹ اگونگ سے اتوار کو راکھ نکلنا شروع ہوئی تھی اور اس وقت پہاڑ کی چوٹی سے تین ہزار میٹر کی بلندی تک راکھ کے سفید اور سرمئی گہرے بادل دیکھے جاسکتے ہیں۔

انڈونیشیا کے جزیرے بالی کے ایک آتش فشاں پہاڑ سے راکھ نکلنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث جزیرے کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ منگل کو مسلسل دوسرے روز بھی پروازوں کے لیے بند ہے۔

ہوائی اڈہ بند ہونے کے باعث ہزاروں غیر ملکی سیاح اور مسافر جزیرے پر پھنسے ہوئے ہیں جب کہ حکام نے ایک بار پھر آتش فشاں پہاڑ کے نزدیک آباد دیہاتیوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ فوراً علاقے سے نکل جائیں۔

بالی کے ماؤنٹ اگونگ سے اتوار کو راکھ نکلنا شروع ہوئی تھی اور اس وقت پہاڑ کی چوٹی سے تین ہزار میٹر کی بلندی تک راکھ کے سفید اور سرمئی گہرے بادل دیکھے جاسکتے ہیں۔

راکھ اگلنے کے ساتھ ساتھ پہاڑ کے اندر لاوا بھی ابل رہا ہے جس کی گڑگڑاہٹ 12 کلومیٹر دور تک سنی جاسکتی ہے۔

انڈونیشیا کے قدرتی آفات سے نبٹنے کے ادارے نے پیر کو آتش فشاں سے لاحق خطرے کو "انتہائی حد" تک بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے اس کے ارد گرد 10 کلومیٹر کے علاقے کے لوگوں کو لازمی انخلا کا حکم دیا تھا۔

حکام کے مطابق اس وارننگ سے آتش فشاں کے اردگرد آباد ایک لاکھ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑے گا تاہم حکومت کے انتباہ کے باوجود علاقے میں اب بھی ہزاروں افراد اپنے گھروں میں موجود ہیں۔

ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ آتش فشاں کے پوری شدت سے پھٹنے اور لاوے کے پھیلنے کا بہت زیادہ امکان ہے جب کہ یہ خدشہ بھی ہے کہ یہ آتش فشاں کئی ہفتوں تک متحرک رہ سکتا ہے۔

اگونگ کا آتش فشاں آخری بار 1963ء میں پھٹا تھا جس سے 1100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جزیرے کے ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے منگل کو کہا ہے کہ مسافروں اور پروازوں کی حفاظت کے پیشِ نظر ہوائی اڈہ مزید 24 گھنٹے کے لیے بند رہے گا۔

آتش فشاں کی راکھ جہازوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور حکام کے مطابق اس وقت پہاڑ سے نکلنے والی راکھ جنوب اور جنوب مغرب کی جانب ہوائی اڈے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آتش فشاں کی راکھ فضا میں 30 ہزار فٹ کی بلندی تک موجود ہے اور اس نے بیشتر جزیرے کی فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کے باعث پروازوں کی آمد و رفت انتہائی خطرناک ہوسکتی ہے۔

بالی کا جزیرہ اپنی ہندو ثقافت، خوب صورت ساحلوں اور گھنے جنگلات کے باعث سیاحوں میں بہت مقبول ہے اور ہر سال 50 لاکھ سیاح دنیا بھر سے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ سیاحوں کی آمد و رفت کے باعث بالی کے ہوائی اڈے کا شمار انڈونیشیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں ہوتا ہے۔

بالی کے ہوائی اڈے کی انتظامیہ کے مطابق منگل کو ایئرپورٹ کی بندش سے 440 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئی ہیں جس سے 60 ہزار کے لگ بھگ مسافر متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق پیر کو بھی اتنی ہی پروازیں منسوخ ہوئی تھیں جن سے تقریباً اتنے ہی مسافر متاثر ہوئے تھے۔

انڈونیشیا میں زمینی ٹرانسپورٹ کے محکمے کے مطابق بالی کے ہوائی اڈے پر پھنسے مسافروں کو فیری کے اڈوں تک لے جانے کے لیے بسیں مہیا کردی گئی ہیں۔

حکام نے سیاحوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فیری کے ذریعے نزدیکی جزیرے جاوا تک جائیں جہاں سے وہ بذریعہ سڑک نزدیکی ہوائی اڈوں تک سفر کرسکتے ہیں۔

انڈونیشیا جس علاقے میں واقع ہے اسے ماہرینِ ارضیات آتش فشاں پہاڑوں کی بڑی تعداد کے باعث 'رنگ آف فائر' یعنی 'آگ کا دائرہ' قرار دیتے ہیں۔ انڈونیشیا کے مختلف جزائر اور زیرِ سمندر اس وقت بھی 120 متحرک آتش فشاں موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG