رسائی کے لنکس

logo-print

کابل: انتخابی دھاندلی کا الزام، عبداللہ کے حامیوں کی بڑی ریلی


کابل میں عبداللہ عبداللہ کے حامیوں کا مظاہرہ۔ 29 نومبر 2019

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں جمعے کے روز ایک سرکردہ صدارتی امیدوار کے حامیوں نے ریلی نکالی، جس میں لوگ ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوئے۔ مظاہرین نے حکام سے مطالبہ کیا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی بند کی جائے، تاکہ مبینہ انتخابی دھاندلی نہ ہونے پائے۔

احتجاجی مظاہرہ ملک کے چیف اگزیکٹو، عبداللہ عبداللہ نے منعقد کیا تھا، جس کا مقصد افغانستان کے آزاد الیکشن کمشن کو یاد دلانا تھا کہ وہ تقریباً 300000 ووٹوں کو شمار نہ کرے، جو بقول ان کے، دھاندلی زدہ ہیں، جن متنازعہ ووٹوں کی گنتی کا نتیجہ، ان کے الفاظ میں، صدر اشرف غنی کو کامیاب قرار دینے کے مترادف ہو گا۔

دھاندلی اور تکنیکی مسائل سے متعلق الزامات کے نتیجے میں ارادے کے باوجود الیکشن کمشن بار بار ابتدائی نتائج کے اعلان کو مؤخر کرتا آیا ہے، جب کہ صدارتی انتخابات 28 ستمبر کو منعقد ہوئے تھے۔ اگر کوئی بھی امیدوار 50 فی صد سے کم ووٹ لیتا ہے، تو ووٹنگ کا دوسرا مرحلہ ناگزیر ہو گا۔

افغان اہل کاروں کے مطابق، ناکافی تیاری، تیکنکی دشواریاں اور طالبان شورش پسندوں کی دھمکیوں اور دیگر عوامل کے نتیجے میں رائے دہی میں ووٹروں نے انتہائی کم تعداد میں حصہ لیا۔

افغان ٹیلی ویژن چینلوں نے براہ راست نشریات کے دوران ویڈیوز دکھائیں جن میں مظاہرین شہر کے مختلف علاقوں میں ریلی میں شریک ہیں، جس کے بعد وہ صدارتی محل کے قریب ایک پرانے علاقے میں جمع ہوئے، جسے کابل کا پشتونستان چوک کہا جاتا ہے۔

مظاہرین نے ’دھاندلی نہیں چلے گی‘ کے نعرے لگائے اور الیکشن کمشن سے مطالبہ کیا کہ وہ دوبارہ گنتی کے عمل میں سے ’’جعلی ووٹ‘‘ نکال دیں۔ بعد ازاں، ریلی کے شرکا پرامن طور پر منتشر ہوئے۔

عبداللہ اور متعدد امیدواروں کے حامیوں نے ملک کے 34 صوبوں میں سے سات میں انتخابی کمشن کے اہل کاروں کو مبینہ جعلی شمار اور دوبارہ گنتی کے کام سے روک دیا ہے۔

افغانستان کے آزاد انتخابی کمشن کی سربراہ، حوا عالم نورستانی نے جمعرات کو اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ملک کے 26 صوبوں میں دوبارہ گنتی کا کام مکمل ہو چکا ہے جب کہ ایک صوبے میں یہ کام جاری ہے۔ انھوں نے احتجاج کرنے والے امیدواروں پر زور دیا کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور انتخابی کمشن کے عملے کو کام کرنے دیں۔

نورستانی نے کہا کہ جب تک کام مکمل نہیں ہوتا، تب تک نتائج کے اعلان کی حتمی تاریخ کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے ان الزامات کو مسترد کیا جن میں کہا جاتا ہے کہ کمشن غنی کا ساتھ دے رہا ہے اور اس بات کا عہد کیا کہ ادارہ شفاف نتائج ترتیب دے گا۔

انتخابی تنازعے کے نتیجے میں سال 2014ء کے دھاندلی زدہ صدارتی انتخابات کی یاد دہرائی جا رہی ہے، جب کئی ماہ تک سیاسی کشیدگی جاری رہی، چونکہ غنی اور عبداللہ نے کامیابی کا دعویٰ کیا تھا۔

وہ بحران تب ہی ختم ہوا تھا جب امریکہ نے مداخلت کی اور دونوں امیدواروں کے مابین اختیارات کی شراکت کا معاہدہ طے پایا، جس کے بعد کمزور نوعیت کی قومی وحدت کی حکومت تشکیل دی گئی، جو اس وقت اقتدار میں ہے۔

حالیہ سیاسی بحران کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے امن کے قیام کی کوششوں میں مشکل پیش آ رہی ہے، جو اس بات کے خواہاں ہیں کہ کئی سال سے جاری افغان لڑائی کا خاتمہ کیا جا سکے، تاکہ ملک میں تعینات 14000 امریکی فوج کا انخلا ممکن ہو۔

جمعے کے روز ہونے والے احتجاج سے ایک روز قبل پہلی بار تھینکس گونگ کے دن ٹرمپ نے کابل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا۔ انھوں نے بگرام کے فضائی اڈے پر امریکی فوجی اہل کاروں سے ملاقات کی۔ اپنے مختصر قیام کے دوران، انھوں نے انکشاف کیا کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ باغی گروپ امریکہ کے ساتھ سمجھوتے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG