رسائی کے لنکس

logo-print

صدر کا مراسلہ: داعش کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت طلب


مسٹر اوباما کی مسودہٴ قرارداد میں عراق اور افغانستان کی طرز پر وسیع سطح کی لڑاکا زمینی کارروائیاں کرنا شامل ہے، جس کام کو امریکی فوج کے برعکس مقامی افواج پر چھوڑا جائے گا

امریکی صدر براک اوباما نے بدھ کے روز کانگریس کو التجا کی ہے کہ داعش کے شدت پسند گروپ کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت دی جائے۔

اُنھوں نے قانون سازوں پر زور دیا ہے کہ، بقول اُن کے، ’اِس بات کا ثبوت دیا جائے کہ ہم داعش کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے عزم میں متحد ہیں‘۔

کانگریس کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں، صدر نے کہا ہے کہ ’فوجی طاقت کے استعمال کےحوالے سے، میں کانگریس کے دونوں اطراف کے ارکان کی حمایت کے حصول کی کوششوں میں پُرعزم ہوں‘۔

مجوزہ منظوری کے حصول سے فوجی کارروائیوں کو تین برس تک محدود کیا جا سکے گا، اور فوج کو اِس بات کا پابند بنایا جائے گا کہ ’بَری لڑاکا کارروائی دیرپہ‘ نتائج برآمد کرے۔

مسٹر اوباما کی مسودہٴ قرارداد میں عراق اور افغانستان کی طرز پر وسیع سطح کی لڑاکا زمینی کارروائیاں کرنا شامل ہے، جس کام کو امریکی فوج کے برعکس مقامی افواج پر چھوڑا جائے گا۔

مجوزہ اختیار کی بدولت سنہ 2002 کی وہ دستاویز معطل ہوجائے گی جس کی رو سے عراق جنگ کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم، سنہ 2001 کے اُس اجازت نامے کو بحال رکھا جائے گا جو 11 ستمبر کے حملوں کے فوری بعد منظور کیا گیا تھا، جس میں القاعدہ اور اُس سے منسلک دھڑوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دی گئی تھی۔

صدر کے مجوزہ اجازت نامے کو امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، دونوں کی منظوری درکار ہے۔

سینیٹ میں ریبپلیکن پارٹی کے اکثریتی قائد، مِچ میکونیل نے منگل کے روز کہا تھا کہ آئندہ چند ہفتوں تک یہ معاملہ کانگریس کے مباحثے پر چھایا رہے گا۔

اس قانون سازی کی صورت میں، مسٹر اوباما کو شام اور عراق میں امریکی قیادت والے بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے داعش کے اہداف کے خلاف فضائی کارروائیوں کا جواز میسر آئے گا؛ اور یہ اُسی طرز کی دستاویز ہوگی جسے 11 ستمبر کے نیویارک سٹی اور واشنگٹن میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد سابق صدر جارج ڈبلیو بُش نے کانگریس کے منظور کرایا تھا۔

XS
SM
MD
LG