رسائی کے لنکس

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے باوجود دوستم 'مارشل' بن گئے


فائل فوٹو

افغانستان میں سیاسی مخالفین کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں، جنسی زیادتی اور جنگی جرائم کے الزامات کا سامنا کرنے والے طاقتور جنگجو کمانڈر عبد الرشید دوستم کو فوج کے سب سے اعلیٰ ترین عہدے 'مارشل' پر فائز کر دیا گیا ہے۔

عبد الرشید دوستم کی عمر 66 برس ہے جب کہ وہ افغانستان کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔

بدھ کو انہیں مارشل کا اعزاز دینے کی خصوصی تقریب منقعد کی گئی۔ یہ عہدہ چار ستاروں والے جنرل کے برابر ہے۔ عبد الرشید دوستم سے قبل یہ اعزاز صرف دو دیگر افراد ہی حاصل کر سکے ہیں جن میں افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ کے عزیز سردار شاہ ولی خان جب کہ سابق صدر حامد کرزئی کے دور میں اعزازی طور پر محمد فہیم کو مارشل کا عہدہ دیا گیا تھا۔

عبد الرشید دوستم کو مارشل کا اعزاز دینے کے لیے تقریب ان کے آبائی صوبے جوزجان میں ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق ان کو مارشل کے عہدے پر فائز کرنا صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی مخالف عبداللہ عبداللہ کے درمیان شراکتِ اقتدار کے معاہدے کا جز تھا۔ عبداللہ عبداللہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے قائم کردہ افغان حکومت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ ہیں۔

عبداللہ عبد اللہ کو اعلیٰ کونسل کا سربراہ صدر اشرف غنی سے شراکتِ اقتدار کے معاہدے کے بعد بنایا گیا تھا۔ افغانستان کے صدارتی انتخابات کے بعد اس کے نتائج کے حوالے سے اشرف غنی اور عبد اللہ عبد اللہ کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور فروری میں دونوں نے صدارت کا الگ الگ حلف اٹھاتے ہوئے اپنی اپنی متوازی حکومتوں کا اعلان کر دیا تھا۔

امریکہ اور دیگر ممالک کے دباؤ کے بعد اشرف غنی اور عبد اللہ عبد اللہ میں شراکت اقتدار کا معاہدہ ہوا تھا۔

معاہدے کے مطابق عبد اللہ عبد اللہ کو صدر کے بعد ملک میں دوسرا اہم ترین عہدہ دیا گیا جب کہ اشرف غنی بدستور صدر کے عہدے پر موجود ہیں۔

افغان صدارتی انتخابات میں عبد الرشید دوستم نے عبداللہ عبداللہ کی حمایت کی تھی۔

جوزجان میں ہونے والی تقریب سے خطاب میں عبد الرشید دوستم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے سیاسی رہنماؤں کو ذاتی اختلافات ختم کر دینے چاہیئیں ورنہ طالبان جنگ جیت جائیں گے۔

انہوں نے امریکہ کی فوج کے جنرلوں سے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے انخلا میں عجلت کا مظاہرہ نہ کریں اور اس بات کا جائزہ لینے کا انتظار کریں کہ طالبان امریکہ کے ساتھ طے ہونے والے سمجھوتے پر پوری طرح عمل کرتے ہیں یا نہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ اور طالبان میں رواں برس دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہونا ہے جب کہ افغانستان میں بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہونا تھا۔ یہ مذاکرات مارچ میں شروع ہونے تھے لیکن اس سے قبل افغان حکومت نے طالبان کے پانچ ہزار جب کہ طالبان نے ایک ہزار سرکاری اہلکار رہا کرنے تھے۔ فریقین نے بیشتر قیدیوں کو رہا کر دیا ہے تاہم کچھ قیدیوں کی رہائی پر تنازع موجود ہے جس کے باعث بین الافغان مذاکرات بھی شروع نہیں ہو سکے ہیں۔

عبد الرشید دوستم کو مارشل کا عہدہ دینے کی تقریب سے خطاب میں افغان حکومت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ طالبان کے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے اور ان سے کہا جائے گا کہ وہ امن عمل کی جانب جانے والے راستے کو مزید نہ روکیں۔

خیال رہے کہ ازبک نسل سے تعلق رکھنے والے عبد الرشید دوستم سوویت یونین کے خلاف جنگ میں اپنے کردار کی وجہ سے جنرل دوستم کے نام سے مشہور ہیں۔

وہ افغانستان پر 2001 کے امریکہ کے حملے سے قبل کئی برس تک اپنی ملیشیا کے ہمراہ طالبان کے خلاف برسرِ پیکار رہے تھے۔

بعد ازاں جنرل دوستم نے افغانستان کے طالبان مخالف رہنماؤں کے اتحاد 'شمالی اتحاد' کے پرچم تلے امریکہ کی فوج کا ساتھ دیا تھا اور طالبان کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

دوستم کو گزشتہ کئی دہائیوں سے افغانستان کے شمال میں آباد ازبک اقلیت کے متفقہ رہنما کی حیثیت حاصل ہے جب کہ ان کی شہرت ایک سخت گیر جنگجو کی ہے۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے جنرل دوستم پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں جب کہ ان پر افغانستان پر امریکی حملے کے دوران 2000 سے زائد طالبان قیدیوں کو کنٹینروں میں بند کرکے دم گھوٹ کر ہلاک کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے۔

عبدالرشید دوستم پر 2016 میں جب وہ افغانستان کے نائب صدر تھے، جوزجان صوبے کے سابق گورنر احمد ایشچی نے اغوا کے بعد تشدد اور جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا۔ یہ دونوں رہنما سیاسی مخالف بھی رہے ہیں۔

ان الزامات کے بعد افغان صدر اشرف غنی پر ان کے خلاف کارروائی کے لیے شدید دباؤ تھا تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے عبدالرشید دستم کو بیرونِ ملک جانے کے لیے دباؤ ڈالا۔ جس پر وہ ترکی منتقل ہو گئے تھے۔

امریکہ، طالبان معاہدے پر دستخط
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:38 0:00

بعد ازاں 2018 میں عبدالرشید دوستم واپس افغانستان آئے اور اپنے آبائی صوبے جوزجان میں ہی مستقل سکونت اختیار کر لی۔

افغان ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کئی ہزار جنگجو عبدالرشید دوستم کے نجی لشکر کا حصہ ہیں جس کے باعث ان کا شمار افغانستان کے بڑے جنگجو رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

طالبان عبدالرشید دوستم پر کئی بار حملہ کر چکے ہیں تاہم وہ ان حملوں میں محفوظ رہے ہیں۔ طالبان نے آخری بار عبد الرشید دوستم پر حملہ مارچ 2019 میں کیا تھا۔ اس حملے میں فائرنگ کے تبادلے میں عبد الرشید دوستم کے کئی محافظ ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل جولائی 2018 میں طالبان نے ان پر ایئر پورٹ میں اس وقت خود کش حملہ کیا تھا جب وہ خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس لوٹے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG