رسائی کے لنکس

امریکہ نے ایرانی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا کے تین کمانڈروں پر پابندی لگا دی


عراقی شہر بصرہ میں مظاہرہ (فائل)

امریکی محکمہ خزانہ نے بتایا ہے کہ عراق میں حکومت مخالف مظاہرین کو ہلاک کرنے میں مبینہ کردار ادا کرنے پر، امریکہ نے جمعہ 5 دسمبر کو ایران کی حمایت یافتہ عراقی پیراملٹری کے تین کمانڈروں کو ناپسندیدہ افراد کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

ایران کے ساتھ قریبی رابطے رکھنے والے عراقی افراد یا مسلح گروہوں کے خلاف امریکی تعزیرات عائد کرنے کا یہ تازہ ترین اقدام ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ روکنے کے لیے اس پر معاشی پابندیاں لگا رہا ہے۔

تعزیرات کا ہدف ایران کی حمایت یافتہ میلشیا ’عصائب اہل الحق‘ کے سربراہ، قیس الخز علی اور ان کے بھائی لیث الخز علی ہیں، جو اسی گروپ کے لیڈر ہیں۔

اس میں حسین فلیح اللامی شامل ہیں جو الحشد الشعبی کے سیکیورٹی کے سربراہ ہیں، جو عراق کے سرکاری پیراملٹری دھڑوں میں شامل ہیں، جس کی پشت پناہی ایران کرتا ہے، جن میں عصائب شامل ہے۔

امریکی محکمہ مالیات نے کہا ہے کہ ان تین پیراملٹری رہنماؤں کی قیادت کے گروپ نے پرامن مظاہرین پر فائر کھولا اور درجنوں سویلینز کو ہلاک کیا۔ رائٹرز نے گذشتہ ماہ اپنی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ لامی نے، جو ابو زینب اللامی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، عسکریت پسندوں کو احکامات جاری کر رکھے تھے کہ احتجاج کرنے والوں کو گولی مار دی جائے۔

عراقی پیراملٹری گروپ مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کرتے ہیں۔ گذشتہ دو ماہ سے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ پولیس اور طبی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے 400 سے زائد افراد کو ہلاک کیا ہے، جن میں سے زیادہ تر غیر مسلح تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی تعزیرات میں بدعنوانی کے الزامات پر عراقی کاروباری شخص، خمیس الخنجر کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔

تعزیرات کے تحت ان رہنماؤں کے امریکہ میں اثاثوں کو منجمد کر دیا گیا ہے اور امریکیوں کی جانب سے ان کے ساتھ کاروبار کرنے پر ممانعت کر دی گئی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے سینئر اہل کاروں نے بتایا ہے کہ مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائی ’’سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہے‘‘۔

ایک اہل کار نے کہا کہ ’’سیاسی عمل میں شرکت عراقیوں کا ایک بنیادی حق ہے۔

انھوں نے کہا کہ سرگرم کارکنوں کے جبری اغوا اور لاپتا ہونے کے معاملات میں ملیشیا کے لیڈر ملوث ہیں۔

احتجاج کرنے والے عراقی کہتے ہیں کہ حکومت پر حاوی گروپوں نے عوام کو غریب اور بے روزگار کر دیا ہے، جس کا سبب بدعنوانی اور ملک میں بہتری لانے کی کوششوں میں ناکامی ہے، جب کہ دولت اسلامیہ کی شکست کے بعد گذشتہ دو برسوں سے حالات نسبتاً پرسکون رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے عہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG