رسائی کے لنکس

logo-print

علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ


علی وزیر ، فائل فوٹو

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسپیکر قومی اسمبلی سے وزیرستان سے منتخب رکن اسمبلی علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اسمبلی میں اپنا موقف بیان کرنے کا حق دیا جانا چاہئے تاکہ عوام کو وزیرستان کے حقائق معلوم ہو سکیں۔

نیب آفس راولپنڈی میں پیشی کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ منتخب رکن پارلیمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو وضاحت دینی چاہئے کہ ایک رکن پارلیمینٹ کو کیسے گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرستان واقعہ پر پارلیمانی یا جوڈیشل کمشن تشکیل دیا جائے جس کے ذریعے حقائق عوام کے سامنے لائیں جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک رکن پارلیمنٹ کو لاپتا کر دیا گیا ہے اور اسپیکر کو بتایا تک نہیں گیا۔ یہ قانون کی خلاف ورزی ہے اور قانون کا احترام سب کو کرنا ہو گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جب ماضی میں ہم نے ون یونٹ پر سمجھوتہ کیا تو ملک ٹوٹا اور بنگلہ دیش بنا۔ ان کے مطابق آج عوام کے معاشی، جمہوری اور انسانی حقوق خطرے میں ہیں اور لوگ سوچ رہے ہیں کہ پہلے ایک بنگلہ دیش بنا تھا اب نہ جانے کتنے دیش بنیں گے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے قبائلی علاقوں ایک نیوز ٹی وی کے صحافی کی گرفتاری کی مذمت کی اور کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی سے ملک مضبوط ہو گا۔

اس سے قبل پیپلز پارٹی چیئرمین پارک لین اسٹیٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کے لیے نیب دفتر میں پیش ہوئے اور تحقیقاتی ٹیم کے سوالات کے جوابات دیئے۔ نیب ٹیم نے بلاول بھٹو کو تحریری سوال نامہ بھی دیا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ وکلا کی مشاورت سے جلد جواب جمع کروا دیں گے۔

بلاول بھٹو کی نیب دفتر میں پیشی پر پارٹی کارکن بھی وہاں پہنچے۔ اس موقع پر کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی اور جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پولیس نے 40 کے قریب کارکنوں کو گرفتار کیا جن میں دو خواتین اراکین پارلیمنٹ بھی شامل تھیں جنہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔

بلاول بھٹو نے کارکنوں پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور واٹر کینن کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اداروں پر قبضہ اور یک جماعتی نظام لاگو کرنا چاہتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے عید کے بعد سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسانی، جمہوری اور معاشی حقوق کے لیے احتجاج کریں گے۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر پولیس تشدد کی مذمت کی۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا کہ پیپلز پارٹی کے احتجاج کا مقصد نیب اور حکومت کو دباؤ میں لانا ہے جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG