رسائی کے لنکس

پی آئی اے طیارہ حادثے پر ایوی ایشن ماہر کیا کہتے ہیں؟


ہوان براؤن کے مطابق اگر جہاز کو نیچے لاتے وقت لینڈنگ گیئر میں تیکنیکی خرابی کا پتا چلے تو لینڈںگ کا ارادہ ترک کر کے جہاز کو دوبارہ اڑایا جاتا ہے اور اس دوران مسئلہ حل کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں جمعے کو کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والے پی آئی اے کے طیارے کے حوالے سے مقامی اور بین الاقوامی ایوی ایشن ماہرین اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ حادثے کے بعد تحقیقات کا عمل بھی جاری ہے کہ آیا یہ تیکنیکی خرابی تھی یا انسانی غلطی۔

ایوی ایشن کے امریکی ماہر ہوان براؤن کا کہنا ہے کہ ایک تجربہ کار پائلٹ دس ہزار فٹ بلندی پر آںے سے بہت پہلے ہی بدلتے حالات دیکھ لیتا ہے اس لیے جہاز کو پیش آنے والے حادثے میں بہت سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کی سارہ زمان سے گفتگو کرتے ہوئے ہوان براؤن نے کہا کہ تجربہ کار پائلٹ لینڈنگ سے بہت پہلے اونچائی پر ہو سکتا ہے مگر اس وقت ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ ہم طریقۂ کار کے مطابق جا رہے ہیں یا نہیں۔

کراچی کا رن وے تقریباً گیارہ ہزار فٹ لمبا ہے تو جہاز کو کس مقام پر زمین کو چھونا چاہیے؟ اس سوال پر براؤن کا کہنا تھا کہ عام طور پر جہازوں کو رن وے پر پہلے ایک تہائی حصے پر اترنا چاہیے اگر ایسا نہ ہو اور جہاز پہلے تین ہزار فٹ کے اندر بھی نہ اترے تو اسے دوبارہ چکر لگا کر لینڈنگ کرنا پڑتی ہے۔

اُن کے بقول، "اگر آپ کے لینڈنگ گیئر میں کوئی مسئلہ ہے تو اسے حل کرنے کے کئی طریقے ہوتے ہیں۔ اگر جہاز کو نیچے لاتے وقت لینڈنگ گیئر میں تیکنیکی خرابی کا پتا چلے تو لینڈںگ کا ارادہ ترک کر کے جہاز کو دوبارہ اڑایا جاتا ہے اور اس دوران مسئلہ حل کیا جاتا ہے۔"

براؤن کے مطابق جہاز کے حادثے کے پسِ پردہ عام طور پر انسانی غلطی ہوتی ہے یا پھر تیکنیکی خرابی کی صورت میں ایمرجنسی کے قواعد و ضوابط پر عمل میں ناکامی۔ لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی ایک چیز جہاز گرنے کا سبب بن جائے۔

یاد رہے کہ 22 مئی کو لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا مسافر طیارہ ایئر پورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ طیارے میں سوار عملے کے آٹھ اہلکاروں سمیت 99 مسافر سوار تھے۔

حادثے میں خوش قسمتی سے دو مسافر محفوظ رہے جنہیں معمولی چوٹیں آئیں تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG