رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی میں آرمینیائی باشندوں کے ساتھ 106 برس قبل کیا ہوا تھا؟


محتاط اندازوں کے مطابق نوجوانان ترک کی جانب سے بے دخل ہونے والے آرمینیوں میں سے دس لاکھ آرمینیوں کی جانیں گئیں۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے پہلی عالمی جنگ میں سلطنتِ عثمانیہ کی جانب سے آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کو باقاعدہ طور پر نسل کشی قرار دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

صدر بائیڈن نے گزشتہ برس اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ آرمینیائی لوگوں کی ہلاکتوں کو 'نسل کشی' تسلیم کرنے کی قرارداد کی حمایت کریں گے اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کا تحفظ اُن کی اولین ترجیح ہو گا۔

صدر بائیڈن آرمینیائی لوگوں کے خلاف کارروائی کو نسل کشی تسلیم کرنے والے امریکہ کے پہلے صدر ہیں۔

صدر بائیڈن کے اس اعلان پر پہلا باقاعدہ ردِّ عمل دیتے ہوئے ترکی کے صدر طیب ایردوان نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک صدی قبل ہونے والے افسوس ناک واقعات پر امریکہ کے صدر نے بے بنیاد، غیرمنصفانہ اور غیر حقیقی تبصرہ کیا ہے۔

طیب ایردوان کا کہنا ہے’’مجھے امید ہے کہ امریکی صدر جلد یہ غلط قدم واپس لے لیں گے۔‘‘

اپنے بیان میں ترکی کے صدر نے ایک بار پھر ترک اور آرمینی مؤرخین کو ان تاریخی واقعات پر تحقیق کے لیے ایک مشترکہ کمیشن بنانے کی پیشکش کی ہے۔

اس سے قبل ترکی کے دفترِ خارجہ نے اپنے ملک میں تعینات امریکہ کے سفیر کو طلب کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

ایک صدی قبل ہونے والے اس قتل عام کی یاد ہر سال 25 اپریل کو منائی جاتی ہے اور صدر بائیڈن نے اسی روز اس حوالے سے اپنے پالیسی بیان میں آرمینیا کے لوگوں کے قتل کو نسل کشی قرار دیا جس کے بعد یہ تاریخی واقعہ ایک بار پھر عالمی سطح پر زیرِ بحث ہے۔

تاریخی پس منظر

موجودہ ترکی کے مشرق میں اناطولیہ کے علاقے میں کرد مسلمانوں کے ساتھ آرمینیائی نسل سے تعلق رکھنے والے مسیحیوں کی بڑی تعداد آباد تھی۔ قدیم دور سے اس علاقے میں مختلف آرمینیائی خاندانوں کی حکومت رہی اور اس دوران انہیں بیرونی مداخلت کا سامنا بھی رہا۔

انسائیکلوپیڈیا آف بریٹینکا کے مطابق گیارہویں صدی سے اس علاقے میں ترکی بولنے والوں کی نقل مکانی کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد پندرھویں اور سولہویں صدی میں یہ علاقے سلطنتِ عثمانیہ میں شامل ہوگئے۔

آرمینی اپنی مشترکہ زبان اور آرمینیائی چرچ کی وجہ سے اپنی گروہی شناخت کا بہت گہرا احساس رکھتے ہیں اور سلطنتِ عثمانیہ کے قیام کے بعد بھی انہوں ںے اپنی علیحدہ شناخت برقرار رکھی۔

ترکی کی سرحد سے متصل آرمینیا کا ایک گاؤں
ترکی کی سرحد سے متصل آرمینیا کا ایک گاؤں

دوسری جانب عثمانیوں نے مختلف مذاہب اور نسلی گروہوں پر مبنی آبادی میں انتظام و انصرام چلانے کے لیے ’ملت‘ کا نظام متعارف کرایا تھا۔ جس کے تحت آرمینیوں سمیت دیگر برادریوں اور نسلی گروہوں کو بڑی حد تک انتظامی اور سماجی خود مختاری دی گئی تھی۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق بیسویں صدی کے آغاز میں سلطنتِ عثمانیہ کی حدود میں آرمینیوں کی آبادی تقرییاً 25 لاکھ تھی۔ یہ زیادہ مشرقی اناطولیہ کے چھ صوبوں میں آباد تھے۔

اس کے علاوہ آرمینیائی باشندوں کی ایک بڑی تعداد سلطنتِ عثمانیہ کی مغربی سرحد سے ملحقہ روس کے علاقوں میں بھی آباد تھی۔

انیسویں صدی میں جب سلطنتِ عثمانیہ کے نظامِ حکومت کو ماڈرن اور سیکیولر بنانے کی کوششوں کا آغاز ہوا تو ’ملت سسٹم‘ بتدریج ختم ہوگیا اور مختلف نسلی اور مذہبی برادریوں کو حاصل انتظامی و سماجی خود مختاری محدود ہونے لگی۔

آرمینیوں کی زیادہ تر آبادی غریب کسانوں پر مشتمل تھی لیکن ان میں سے بعض تجارت اور مختلف اشیا کی تیاری میں کاریگری کے شعبوں میں کام یاب رہے۔ انہی کامیابیوں کی وجہ سے سترھویں اور اٹھارہویں صدی میں استنبول میں آرمینیوں کی آبادیاں قائم ہونا شروع ہوئیں۔

آرمینی مشکوک ہونے لگے

اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں آرمینیوں نے کئی اہم حکومتی عہدے حاصل کیے جب کہ عثمانی سلطنت میں ان کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا۔

بریٹینکا کے مطابق آرمینیوں کے نمایاں ہونے سے مسلم آبادی میں ان کے حوالے سے ناپسندیدگی میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔ انیسویں صدی میں آرمینیوں کے حوالے سے یہ تاثر شدید ہونے لگا کہ یہ غیر ملکی ہیں اور اپنی آزاد ریاست کے حصول کے لیے عثمانی سلطنت کو کسی بھی وقت دھوکہ دے سکتے ہیں۔

آرمینی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل کی یاد میں بنائی گئی ایک یادگار
آرمینی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل کی یاد میں بنائی گئی ایک یادگار

عثمانی سلطنت میں ریاست کے بدلتے کردار کے ساتھ آرمینیائی باشندوں کے ترک مسلم حکمرانوں کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی آنا شروع ہوئی اور اُدھر روسی کاکیشیا میں آرمینیائی نوجوانوں نے آزاد ریاست کے لیے تحریک کا آغاز کر دیا تھا۔

روس میں 1887 میں اور 1898 میں دو انقلابی تنظیمیں بنیں لیکن ترکی کے آرمینیوں میں انہیں مقبولیت حاصل نہیں ہوئی اور وہ سلطنتِ عثمانیہ کے ساتھ وفادار رہے۔ لیکن انقلابی آرمینیوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے ترکی میں اس حوالے سے بے چینی بڑھنے لگی۔

سلطنتِ عثمانیہ کے فرماں روا عبدالحمید دوم کے دور میں آرمینیوں کے خلاف انیسویں اور بیسیوں صدی میں تشدد کے بڑے واقعات پیش آئے۔

ٹیکس اور قتل عام

انسائیکلو پیڈیا آف برٹینیکا کے مطابق 1894 میں سلطنتِ عثمانیہ کے خطے ساسون میں آرمینیوں نے ایک حکومتی ٹیکس کو غیر منصفانہ قرار دے کر اس کی ادائیگی سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد عثمانی فوجوں اور کرد قبائلیوں نے اس علاقوں میں مبینہ طور پر ہزاروں آرمینیوں کو قتل کیا۔

تاریخی دستاویزات کے مطابق سن 1895 میں استنبول میں اپنے مطالبات کے لیے مظاہرہ کرنے والے آرمینیوں کو روکنے کے لیے عثمانی سلطنت کی کارروائی قتل عام کی شکل اختیار کر گئی تھی۔

بیان کیا جاتا ہے کہ 1894 سے 1896 تک مختلف مواقع پر ہزاروں آرمینیوں اور آساریوں کا قتل عام ہوا جسے ’حمیدی قتل عام‘ قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم عبدالحمید دوم نے اس قتلِ عامل میں براہِ راست ملوث ہونے سے ہمیشہ انکار کیا۔

مبینہ طور پر اس کے بعد 1909 میں مختلف شہری علاقوں میں ہونے والے قتل عام میں بھی کم و بیش 20 ہزار آرمینیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔

’نوجوانانِ ترک‘ کا دور

سن 1908 میں کمیٹی آف یونین اینڈ پروگریس (سی پی یو) نے اقتدار حاصل کیا اور عبدالحمید دوم سے آئین کی حکمرانی، انتخابات کے انعقاد اور دیگر اصلاحات کے مطالبات کیے۔

یہ تحریک ’نوجوانانِ ترک‘ (Young Turks)کے نام سے جانی جاتی تھی۔ ان مطالبات کی وجہ سے آرمینیوں سمیت دیگر نسلی اور مذہبی گروہوں نے ان کا خیر مقدم کیا۔

نسلی کشی کب شروع ہوئی

'نوجوانانِ ترک' کی پالیسی میں تیزی سے تبدیلی آنے لگی اور انہوں نے غیر ترک اقوام کے بارے میں عدم برداشت کا رویہ اختیار کیا جس کے بعد وہ آرمینیوں کی وفاداری کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔

سن 1913 میں 'نوجوانانِ ترک' کے عسکریت پسند ارکان انور پاشا اور طلعت پاشا نے بغاوت کردی اور اقتدار سنبھال لیا۔

اُدھر جنگ بلقا ن میں سلطنتِ عثمانیہ کو شکست ہوئی اور ان کے ہاتھ سے یورپ کا باقی ماندہ علاقہ بھی چلا گیا۔ 'نوجوانان ترک' کے رہنماؤں نے بلقان کے عیسائیوں کو اس جنگ میں شکست کا ذمے دار ٹھہرایا۔ شکست کے بعد سیکڑوں ہزاروں مسلمان پناہ گزینوں کو مشرقی اناطولیہ منتقل کیا جانے لگا جہاں مسلمان اور مسیحی کسانوں کے درمیان زرعی اراضی پر تنازعات جنم لینے لگے۔

آرمینی پہلے ہی 'نوجوانانِ ترک' کی پالیسیوں سے خدشات میں مبتلا تھے۔ انہوں نے بلکان میں شکست کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کو کمزور ہوتے دیکھا تو یورپی ممالک پر زور دینا شروع کیا کہ وہ آرمینیائی صوبے کو خود مختاری دلوانے کے لیے 'نوجوانانِ ترک' پر دباؤ بڑھائیں۔

سن 1914 میں یورپی قوتوں نے سلطنتِ عثمانیہ سے اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد 'نوجوانانِ ترک' نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف یورپی قوتوں سے آرمینیوں کی ساز باز کا ان کا شبہ درست تھا۔

پہلی عالمی جنگ میں سلطنتِ عثمانیہ نے فرانس، روس اور برطانیہ کے خلاف جرمنی اور محوری قوتوں کا ساتھ دیا۔

مؤرخین کے مطابق روس پہلے ہی اناطولیہ کے بعض علاقے حاصل کرنے کی خواہش رکھتا تھا۔ اس مقصد کے لیے روس نے مشرقی اناطولیہ میں آباد آرمیینیوں سے رابطے بڑھائے اور انہیں یقین دہائی کرائی کہ روس ایک مسیحی ریاست ہے اس لیے آرمینیوں کو روسی حکومت کے تحت زیادہ بہتر حالات میسر آئیں گے۔ ان رابطوں میں چند آر مینیوں نے روس کا ساتھ دینے پر آمادگی بھی ظاہر کی۔

نوجوانان ترک نے ایسے واقعات کی بنا پر آرمینیوں کو اپنی حکومت کے خلاف خطرہ تصور کرنا شروع کر دیا۔

یہ اور ایسے دیگر واقعات کے سبب اناطولیہ میں آرمینیوں کا قتلِ عام بہت پہلے شروع ہوچکا تھا تاہم مؤرخین اپریل 1915 کو اس نسل کُشی کی ابتدا قرار دیتے ہیں۔

استنبول میں ایک احتجاج کا منظر جس میں مظاہرین نے آرمینی دانشوروں اور سیاست دانوں کی تصویریں اٹھا رکھی ہیں جنہیں پہلی جنگِ عظیم کے دوران گرفتار کرنے کا حکم دینے کے بعد بیشتر کو قتل کر دیا گیا تھا۔
استنبول میں ایک احتجاج کا منظر جس میں مظاہرین نے آرمینی دانشوروں اور سیاست دانوں کی تصویریں اٹھا رکھی ہیں جنہیں پہلی جنگِ عظیم کے دوران گرفتار کرنے کا حکم دینے کے بعد بیشتر کو قتل کر دیا گیا تھا۔

'نوجوانان ترک' کے مرکزی رہنماؤں اور ’تین پاشاؤں‘ میں شمار ہونے والے طلعت پاشا نے 250 کے قریب آرمینی دانشوروں اور سیاست دانوں کو استنبول میں گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ ان میں سے زیادہ تر کو بعد میں قتل کر دیا گیا۔

طلعت پاشا نے 26 مئی کو ’بے دخلی کا قانون‘ منظور کیا جس کے مطابق حکومت کو مشرقی اناطولیہ سے تمام آرمینیوں کو روسی سرحد سے دور کسی نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی۔

دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان احکامات کے بعد آرمینیوں کا 'قتلِ عام' کیا گیا یا ان کی بڑی تعداد کو شامی صحرا میں منتقل کر دیا گیا جہاں ان کے بچنے کے انتہائی کم امکانات تھے۔ ہزاروں لوگ بھوک، پیاس اور بیماریوں کی وجہ سے اس سفر میں ہلاک ہوئے۔

ان میں سے بچے کھچے جو لوگ سفر کے دوران اپنی جان بچانے میں کام یاب رہے انہیں کنسنٹریشن کیمپوں میں رکھا گیا اور 1916 تک آرمینیوں کا قتل عام جاری رہا۔

محتاط اندازوں کے مطابق اس نقل مکانی اور بے دخلی کے دوران چھ سے دس لاکھ کے درمیان آرمینیوں کی جانیں گئیں۔

نسل کشی سے بچنے کے لیے نقل مکانی کرنے والے آرمینیوں کی بڑی تعداد آج بھی شام اور لبنان میں آباد ہے۔
نسل کشی سے بچنے کے لیے نقل مکانی کرنے والے آرمینیوں کی بڑی تعداد آج بھی شام اور لبنان میں آباد ہے۔

نسل کشی سے بچنے کے لیے نقل مکانی کرنے والے ان آرمینیوں کی بڑی تعداد آج بھی شام اور لبنان میں آباد ہے۔

بڑی تعداد میں صحافی، سفارت کار، تبلیغی مشنری سے تعلق رکھنے والے افراد اور فوجی افسران ان واقعات کے عینی شاہد تھے اور ان میں سے ایک بڑی تعداد نے اسے اپنی یادداشتوں میں بیان بھی کیا ہے۔

آرمینیوں کے قتلِ عام پر ردِعمل

اس قتل عام پر پوری دنیا اور خاص طور پر مسیحی اکثریت رکھنے والے یورپی ممالک اور امریکہ کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔

پہلی عالمی جنگ میں ترکی کے حریف ممالک روس، برطانیہ اور فرانس نے عثمانی حکومت کو اس کا ذمے دار قرار دیا لیکن عملی طور پر اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیاگیا۔

جن آرمینیوں کو بڑی تعداد میں اناطولیہ سے نکالا گیا تھا وہ عرب ممالک میں پناہ لینے میں کام یاب ہوئے تھے۔ 1917 میں عثمانیوں کے خلاف اٹھنے والی تحریک کی قیادت کرنے والے شریفِ مکہ نے مسلمانوں کو آرمینیوں کو تحفظ اور تعاون فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

یورپی ممالک کی اکثریت آرمینیوں کے قتل عام کو ’نسل کشی‘ قرار دیتے ہیں۔
یورپی ممالک کی اکثریت آرمینیوں کے قتل عام کو ’نسل کشی‘ قرار دیتے ہیں۔

یورپی ممالک کی اکثریت آرمینیوں کے قتل عام کو ’نسل کشی‘ قرار دیتے ہیں۔ مشرقِ وسطی میں لبنان، شام اور لیبیا بھی اسے نسل کشی ماننے والے ممالک میں شامل ہیں۔

دنیا کے دیگر ممالک اسے نسل کشی کہنے سے گریز کرتے ہیں تاہم اس بڑے پیمانے پر آرمینیوں کے قتل عام سے انکار نہیں کرتے۔ ترکی اور آذربائیجان اسے نسل کشی تسلیم نہیں کرتے۔

قتل عام اور ’نسل کُشی‘ میں فرق

اقوامِ متحدہ کے 1948 کے کنوینشن برائے نسل کشی (Genocide) کے مطابق نسل کشی ان اقدامات کو قرار دیا جائے گا جو کسی ’قوم، نسل و رنگ یا مذہب سے تعلق رکھنے والے گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کے لیے کیے جائیں۔

دوسری جانب ترکی دانستہ طور پر نسل کشی کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ اس کا مؤقف رہا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ جنگ کے دوران روسیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

ترکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے آرمینیائی باشندوں کی تعداد عام طور پر سمجھی جانے والی تعداد 15 لاکھ سے کہیں کم ہے۔

ترکی میں مسئلے کی حساسیت

آرمینیائی دنیا کے ان نسلی گروہوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی آبادی دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ وہ پہلی عالمی جنگ میں ہونے والے قتل عام کو نسل کشی قرار دلوانے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے ہیں اور عالمی سطح پر ہر سال 25 اپریل کو اس کا دن مناتے ہیں۔

تاہم ترکی میں اس معاملے پر بحث تنازعات اور حکومتی ردعمل کا باعث بنتی رہی ہے۔ اس حوالےسے عوامی فورم پر بات کرنے والے ممتاز مصنفین کو بھی ترکی کے مجموعہ تعزیزات کے آرٹیکل 301 کے تحت ’ترکیت کی توہین‘ کا مرتکب قرار دے کر کارروائی کی جاچکی ہے۔

سن 2005 میں ایک معروف تنازع اس وقت سامنے آیا تھا جب ترکی کے نوبیل انعام یافتہ ممتاز مصنف اورحان پامک کے خلاف آرمینیوں کی نسل کشی کو تسلیم کرنے پر مقدمہ قائم کیا گیا اور بعد میں جرمانہ بھی عائد ہوا۔ ترک قوم پرستوں نے ان کی کتابیں جلادیں اور انہیں شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی طرح آرمینیوں کی نسل کشی کو تسلیم کرنے کی حمایت کرنے والے ایک اور مصنف ہرنت دنک کو 2007 میں ایک ترک قوم پرست نوجوان نے قتل کر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG