سری لنکا: صدر کے لیے نئے وزیرِ اعظم کا انتخاب بڑا چیلنج بن گیا
سری لنکا: صدر کے لیے نئے وزیرِ اعظم کا انتخاب بڑا چیلنج بن گیا
سری لنکا کے صدر گوتابایا راجا پکسے کے بڑے بھائی مہندا راجا پکسے پیر کو عوامی مظاہروں کے پیشِ نظر مستعفی ہو گئے تھے۔
ویب ڈیسک —
سری لنکا میں اس وقت عملاً کوئی حکومت نہیں اور صدر گوتابایا راجاپکسے ہی امورِ مملکت چلا رہے ہیں۔ سابق وزیرِ اعظم مہندا راجاپکسے کے استعفے کے بعد عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر نئے وزیرِ اعظم کا انتخاب عمل میں لایا جائے۔
شدید معاشی بحران میں گھرے سری لنکا کو سیاسی بحران کا بھی سامنا ہے۔ ایک جانب عوام میں حکمراں پکسے خاندان کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے تو وہیں نئی حکومت کے قیام سے متعلق صورتِ حال غیر واضح ہے۔
سری لنکن آئین کے تحت صدر گوتابایا راجاپکسے کو پہلے نئے وزیرِ اعظم کے لیے امیدوار کا انتخاب کرنا ہے جسے اپنی کابینہ تشکیل دے کر امورِ مملکت چلانا ہیں۔ لیکن نئے وزیرِ اعظم کے انتخاب کے لیے 225 ارکان پر مشتمل اسمبلی میں سادہ اکثریت درکار ہے۔
صدر گوتابایا کو نئے وزیرِ اعظم کا انتخاب ایسے موقع پر کرنا ہے جب اپوزیشن کی جانب سے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پیر کو ہی گوتابایا کے بڑے بھائی اور سابق وزیرِ اعظم مہندا راجاپکسے اپوزیشن کے احتجاج کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
یاد رہے کہ گوتابایا راجا پکسے نے 2019 میں سری لنکا کے صدر کا منصب سنبھالا تھا اور اگلے ہی سال یعنی 2020 میں ان کے بڑے بھائی انتخابات میں کامیابی کے بعد ملک کے نئے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تھے۔
سری لنکا کا قومی خزانہ خالی ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اسے بیرونی ادائیگیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں خوراک، ادویات اور ایندھن کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
ایندھن کی کمی کی وجہ سے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے بھی عوام کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مسائل میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
موجودہ غیر یقینی صورتِ حال کے باعث صدر گوتابایا کے آئندہ کے فیصلے کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے اور سیاسی خلا پر نہ ہونے کی صورت میں ملک میں مارشل لا کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے۔
اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ صدر گوتابایا نے اگر اسمبلی کے کسی رکن کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کیا تو وہ اسمبلی سے اکثریت حاصل کر سکے گا یا نہیں۔
سری لنکا میں پرتشدد مظاہرے، جلاؤ گھیراؤ
1/12سری لنکا میں جاری سنگین معاشی بحران کے سبب ملک بھر میں پُر تشدد مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔
سری لنکا کے وزیرِاعظم مہندا راجاپاکسے کے مستعفی ہونے کے بعد ملک بھر میں حکومت کے حامی اور مخالفین کی جانب سے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ تصادم کے دوران ایک رکنِ پارلیمنٹ سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 180 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کے کئی مقامات پر کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے جب کہ پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
2/12ملک میں حکومت کے حامیوں اور مخالفین کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
سری لنکا کے وزیرِاعظم مہندا راجاپاکسے کے مستعفی ہونے کے بعد ملک بھر میں حکومت کے حامی اور مخالفین کی جانب سے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ تصادم کے دوران ایک رکنِ پارلیمنٹ سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 180 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کے کئی مقامات پر کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے جب کہ پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
3/12معاشی بحران کے خلاف گزشتہ ایک ماہ سے جاری مظاہروں کے بعد پیر کو وزیرِاعظم مہندا راجا پاکسے اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
سری لنکا کے وزیرِاعظم مہندا راجاپاکسے کے مستعفی ہونے کے بعد ملک بھر میں حکومت کے حامی اور مخالفین کی جانب سے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ تصادم کے دوران ایک رکنِ پارلیمنٹ سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 180 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کے کئی مقامات پر کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے جب کہ پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
4/12وزیرِاعظم کے مستعفی ہونے کے بعد ملک میں حکومت کے مخالفین کی جانب سے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا گیا۔
سری لنکا کے وزیرِاعظم مہندا راجاپاکسے کے مستعفی ہونے کے بعد ملک بھر میں حکومت کے حامی اور مخالفین کی جانب سے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ تصادم کے دوران ایک رکنِ پارلیمنٹ سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 180 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کے کئی مقامات پر کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے جب کہ پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
5/12 مظاہرین صدر گوتابایا راجا پاکسے کے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کررہے ہیں تاہم ماضی میں وہ ان مطالبات کو مسترد کرتے آئے ہیں۔
سری لنکا کے وزیرِاعظم مہندا راجاپاکسے کے مستعفی ہونے کے بعد ملک بھر میں حکومت کے حامی اور مخالفین کی جانب سے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ تصادم کے دوران ایک رکنِ پارلیمنٹ سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 180 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کے کئی مقامات پر کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے جب کہ پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
6/12پُر تشدد مظاہروں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سری لنکا کے وزیرِاعظم مہندا راجاپاکسے کے مستعفی ہونے کے بعد ملک بھر میں حکومت کے حامی اور مخالفین کی جانب سے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ تصادم کے دوران ایک رکنِ پارلیمنٹ سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 180 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کے کئی مقامات پر کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے جب کہ پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
7/12حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے تصادم کے دوران 180 کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سری لنکا کے وزیرِاعظم مہندا راجاپاکسے کے مستعفی ہونے کے بعد ملک بھر میں حکومت کے حامی اور مخالفین کی جانب سے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ تصادم کے دوران ایک رکنِ پارلیمنٹ سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 180 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کے کئی مقامات پر کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے جب کہ پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
8/12دارالحکومت کولمبو کے کئی مقامات پر کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے۔
سری لنکا کے وزیرِاعظم مہندا راجاپاکسے کے مستعفی ہونے کے بعد ملک بھر میں حکومت کے حامی اور مخالفین کی جانب سے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ تصادم کے دوران ایک رکنِ پارلیمنٹ سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 180 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کے کئی مقامات پر کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے جب کہ پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
9/12سری لنکا میں جاری سنگین معاشی بحران کے باعث گزشتہ کئی ہفتوں سے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے تھے۔
سری لنکا کے وزیرِاعظم مہندا راجاپاکسے کے مستعفی ہونے کے بعد ملک بھر میں حکومت کے حامی اور مخالفین کی جانب سے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ تصادم کے دوران ایک رکنِ پارلیمنٹ سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 180 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کے کئی مقامات پر کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے جب کہ پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
10/12عوامی دباؤ کی وجہ سے گزشتہ ماہ وزیرِ اعظم کے بھائی باسل راجا پاکسے کو وزارتِ خزانہ کے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔
سری لنکا کے وزیرِاعظم مہندا راجاپاکسے کے مستعفی ہونے کے بعد ملک بھر میں حکومت کے حامی اور مخالفین کی جانب سے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ تصادم کے دوران ایک رکنِ پارلیمنٹ سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 180 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کے کئی مقامات پر کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے جب کہ پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
11/12پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
سری لنکا کے وزیرِاعظم مہندا راجاپاکسے کے مستعفی ہونے کے بعد ملک بھر میں حکومت کے حامی اور مخالفین کی جانب سے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ تصادم کے دوران ایک رکنِ پارلیمنٹ سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 180 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کے کئی مقامات پر کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے جب کہ پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
12/12مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی نفری موجود ہے۔
سری لنکا کے وزیرِاعظم مہندا راجاپاکسے کے مستعفی ہونے کے بعد ملک بھر میں حکومت کے حامی اور مخالفین کی جانب سے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ تصادم کے دوران ایک رکنِ پارلیمنٹ سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 180 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت کولمبو کے کئی مقامات پر کرفیو بھی نافذ کیا گیا ہے جب کہ پولیس نے مظاہرین پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
Previous slide
Next slide
صدر گوتابایا متحدہ حکومت کی تشکیل کی کوشش کرسکتے ہیں لیکن بظاہر ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آتا کیوں کہ اپوزیشن ارکان کو اتحاد میں شامل کرنا ان کے لیے ایک مشکل ٹاسک ہو گا۔
اگر صدر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیتے ہیں تو پارلیمنٹ کے اسپیکر ایک ماہ کے لیے نگراں صدر کے طور پر فرائض انجام دیں گے اور اس عرصے کے دوران پارلیمنٹ ایک نئے صدر کا انتخاب کرے گی تاوقتیکہ کے انتخابات نہیں ہو جاتے۔
اپوزیشن کے لیے صدر گوتابایا کا مواخذہ بھی آسان نہیں ہے۔ اس کے لیے پارلیمنٹ کے اسپیکر، سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے کم از کم 150 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ جب کہ حزبِ اختلاف کے پاس پارلیمنٹ میں اکثریت بھی نہیں ہے۔
سری لنکا کے 45 سالہ صدارتی نظامِ حکومت میں صدر کو عہدے سے ہٹانے کی صرف ایک مرتبہ ناکام کوشش ہوئی ہے۔ سری لنکا کے آئین تحت صدر ملک کی مسلح افواج کا کمانڈر ان چیف ہوتا ہے جو کابینہ کا سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس، پولیس سربراہ اور دیگر اہم تعیناتیاں کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
مذکورہ تمام اختیارات کے باوجود صدر کو امورِ مملکت چلانے کے لیے وزیرِ اعظم اور کابینہ کی ضرورت ہے۔
اس خبر میں شامل مواد خبر رساں اداے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے لیا گیا ہے۔