رسائی کے لنکس

logo-print

'بلیک لائیوز میٹر' تحریک کیا ہے؟


امریکی سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد 'بلیک لائیوز میٹر' تحریک دنیا کے مختلف ملکوں میں زور پکڑ چکی ہے۔

امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے بعد نہ صرف امریکہ میں بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں میں بھی 'بلیک لائیوز میٹر' کے نعرے کی گونج سنائی دے رہی ہے اور ہر طرف سے سیاہ فام شہریوں کے حق میں آواز بلند کی جا رہی ہے۔

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد امریکہ میں ہونے والے احتجاج کے دوران یہ نعرہ مرکزِ نگاہ رہا جس کے تحت ہر رنگ اور نسل کے افراد سیاہ فام افراد سے اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔

'بلیک لائیوز میٹر' کے اس نعرے اور تحریک کا آغاز بھی جارج فلائیڈ کی طرح ہی ایک سیاہ فام امریکی شہری کی ہلاکت سے ہوا تھا۔

امریکہ میں 2012 میں ہلاک ہونے والے 17 سالہ سیاہ فام ٹریون مارٹن کے قاتل جارج زمر مین کے مقدمے سے بری ہونے کے بعد 2013 میں ایک تحریک شروع ہوئی تھی جس کے دوران 'بلیک لائیوز میٹر' یعنی "سیاہ فاموں کی زندگی بھی اہمیت رکھتی ہے" کا نعرہ لگایا گیا تھا۔

ٹریون مارٹن کی ہلاکت اور زمرمین کے خلاف مقدمہ سیاہ فام امریکیوں کے لیے ایک جذباتی مسئلہ ہونے کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر موضوعِ بحث بنا رہا تھا۔ اُس وقت کے صدر براک اوباما نے بھی یہ نعرہ بلند کرنے والوں کے ساتھ اظہارِ یکجتی کیا تھا۔

افریقی نژاد امریکیوں سے روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے براک اوباما نے کہا تھا کہ اپنی جوانی میں وہ خود بھی ٹریون مارٹن جیسے حالات کا شکار ہو سکتے تھے۔

'بلیک لائیوز میٹر' کی یہ تحریک امریکہ کے علاوہ برطانیہ اور کینیڈا میں بھی سرگرمِ عمل ہے۔ تحریک کے بانیوں کے مطابق ان کا مشن سفید فام نسلی برتری کا خاتمہ اور سیاہ فام لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور ان کے خلاف تشدد کو روکنا ہے۔

'بلیک لائیوز میٹر' تحریک کے ذمہ داران کے مطابق یہ تحریک مقامی سطح پر لوگوں کی مدد کرتی ہے تاکہ سیاہ فام برادری کے ساتھ ریاست، اس کے اداروں اور سفید فام نسل پرستوں کی طرف سے نسلی امتیاز کو روکا جا سکے۔

تحریک سے وابستہ افراد کا دعویٰ ہے کہ ان کی جدوجہد کے نتیجے میں سیاہ فام لوگوں کے خلاف تشدد کو روکنے میں مدد ملی ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔

تحریک کے مقاصد

'بلیک لائیوز میٹر' کے مطابق یہ تحریک لوگوں کی حقیقی آزادی اور انصاف کے لیے ہے۔

تحریک اس بات پر بھی یقین رکھتی ہے کہ اسے سیاہ فام برادریوں میں موجود قومیت کے تنگ نظریے سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہے تاکہ تمام لوگ علی الاعلان اس کا حصہ بن سکیں۔

تحریک ان تمام لوگوں کی زندگی کی بات کرتی ہے جو پسماندگی کا شکار ہیں۔ ان میں سیاہ فام، مفلوج افراد، خواتین، خواجہ سراؤں اور غیر قانونی طور پر رہنے والے تارکین وطن شامل ہیں۔

تحریک سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ہم ایسی دنیا کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں جہاں سیاہ فام زندگیوں کو کسی نظام کے تحت نشانہ بنا کر اُنہیں مارا نہ جائے۔

تحریک کے مطابق اس کی یہ پکار کہ 'سیاہ فام زندگیاں اہم ہیں' ان تمام سیاہ فام لوگوں کی آواز ہے جو جبر سے نجات اور حقیقی آزادی چاہتے ہیں۔

امریکہ میں احتجاج

یوں تو 'بلیک لائیوز میٹر' گزشتہ کئی برسوں سے سرگرمِ عمل ہے لیکن افریقی امریکی جارج فلائیڈ کی منی ایپلس پولیس کی تحویل میں موت کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد یہ تحریک ایک بار پھر شمالی امریکہ اور یورپ میں ایک نمایاں تحریک کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

امریکہ کے کئی شہروں میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے 'بلیک لائیوز میٹر' کے بینرز اور پلے کارڈز اٹھاتے ہوئے احتجاج میں شرکت کی۔

دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں شہر کی میئر موریل باؤزر نے وائٹ ہاؤس کی جانب جانے والی سڑک کا نام 'بلیک لائیوز میٹر' رکھ دیا ہے اور بڑے بڑے حروف میں یہ نعرہ سڑک پر تحریر کرادیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی طرف جانے والی سڑک پر 'بلیک لائیوز میٹر' لکھ دیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی طرف جانے والی سڑک پر 'بلیک لائیوز میٹر' لکھ دیا گیا ہے۔

ایک طرف تو امریکہ میں یہ تحریک قومی دھارے کی ایک آواز کے طور پر ابھری ہے اور دنیا میں بھی اس کی آواز کو تسلیم کیا گیا ہے، تو دوسری طرف اس پر کچھ حلقوں کی طرف سے تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

بعض افریقی امریکی شہریوں اور دیگر افراد نے اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ اس تحریک کے نام سے یہ ظاہر ہوتا ہے جیسے صرف سیاہ فام زندگیوں کی اہمیت ہے۔ درحقیقت تمام زندگیوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

بلیک لائیوز میٹر کی قیادت

'بلیک لائیوز میٹر' ایک ایسی تحریک ہے جسے کوئی مرکزی قیادت کنٹرول نہیں کرتی۔ البتہ اس کی بنیاد رکھنے والی انسانی حقوق کی تین علم بردار خواتین کو اس تحریک کا بانی رہنما جانا جاتا ہے۔

اوپل ٹومیٹی اس تحریک کی بانیوں میں شامل ہیں جنہوں نے 2013 میں اس کی بنیاد رکھی تھی۔ نائیجیرین نژاد امریکی قلم کار ہونے کے ساتھ ساتھ اوپل انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور کمیونٹی آرگنائزر بھی ہیں۔

وہ 'بلیک الائنس فار جسٹ امیگریشن' نامی تنظیم کی پہلی ایگزیکٹو ڈائریکٹر رہی ہیں۔ انہوں نے 'بلیک لائیوز میٹر' کو سوشل میڈیا کے ذریعے متعارف کرانے میں اہم کردار کیا ہے۔

الیشیا گارزا سول حقوق کی کارکن اور لکھاری ہیں۔ وہ 'بلیک فیوچرز لیب' نامی ادارے کی پرنسپل ہیں۔ 'بلیک لائیوز میٹر' کی اصطلاح تخلیق کرنے کا سہرا اُن کے سر ہے۔ انہوں نے اس اصطلاح کا اظہار سب سے پہلے ایک فیس بک پوسٹ میں کیا تھا۔

پٹریس کلرز بھی اس تحریک کی شریک بانی ہیں۔ وہ ایک آرٹسٹ، کارکن اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں۔ انہوں نے ٹریون مارٹن کیس میں ملوث زمرمین کو عدالت کی طرف سے بری کرنے کے بعد ایک فیس بک میں ہیش ٹیگ 'بلیک لائیوز میٹر' کے الفاظ کے ساتھ بانی الیشیا گا رزا کے بیانیے کی حمایت کی تھی۔

اُن کے بقول انسانی حقوق کے لیے جدوجہد میں ان کی شرکت کی ایک وجہ ان کے اپنے بھائی کے ساتھ لاس اینجلس کاؤنٹی جیل میں کیا جانے والا ظالمانہ سلوک ہے۔

'بلیک لائیوز میٹر' تحریک کے مطالبات

'بلیک لائیوز میٹر' کے قیام سے اب تک اس کے مطالبات میں ارتقا نظر آتا ہے۔ ابتداً قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف پرتشدد رویے کی شکایات کے ازالے کے لیے پولیس کے نظام میں اصلاحات اس کا ایک بنیادی مطالبہ تھا۔

اسی طرح انصاف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے نظامِ عدل میں اصلاحات بھی اس کا مطالبہ رہا ہے۔

ان مطالبات میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ لوگوں کو قید و بند کی صعوبتوں میں رکھنے کے بجائے تعلیم کے مواقع بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے۔

قانون کے نفاذ کے سلسلے میں تحریک کا ایک مطالبہ یہ بھی رہا ہے کہ اصلاحات کر کے کمیونٹی کو پولیس کے کنٹرول میں زیادہ اختیارات دیے جائیں۔ خاص طور پر کثیرالجہت اور اقلیتی برادریوں کے افراد کو اختیار دیا جائے کہ وہ بھی پولیس افسروں کی بھرتی اور برطرفی میں کردار ادا کریں اور شہروں میں پولیس کے لیے مختص فنڈنگ پر بھی انہیں کنٹرول دیا جائے۔

'بلیک لائیوز میٹر' تحریک میں صرف سیاہ فام افراد ہی نہیں بلکہ سفید فام افراد کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔
'بلیک لائیوز میٹر' تحریک میں صرف سیاہ فام افراد ہی نہیں بلکہ سفید فام افراد کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

لیکن حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران اس تحریک کے وابستگان نے مزید مطالبات پیش کیے ہیں۔

ان مطالبات میں پولیس کے شعبے کو یکسر ختم کرنا اور ان کے لیے بجٹ کو یا تو ختم کرنا یا کم کرنا بھی شامل ہے۔

تحریک کی بانی اوپل ٹومیٹی کے مطابق جارج فلائیڈ کی موت پر احتجاجی مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب لوگ پہلے ہی سے گھمبیر مسائل میں گھرے ہوئے ہیں جن میں کرونا وائرس کی وجہ سے ملازمتوں کے مواقع ختم ہونا بھی شامل ہے۔

مذکورہ تحریک کے مطالبات میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کو روکنا اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری کرنا بھی شامل ہو گیا ہے۔

تحریک کا بجٹ اور کام کرنے کا طریقہ

'بلیک لائیوز میٹر' کو مالی امداد فراہم کرنے میں افریقی امریکی اور قومی دھارے کی کئی مختلف تنظیمیں شامل ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق تک اس تحریک کو فورڈ فاؤنڈیشن، اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن، بلیک یوتھ پروجیکٹ، بلیک سیوک انگیجمنٹ فنڈ، سینٹر فار پاپولر ڈیموکریسی جیسی تنظیموں نے اب تک 100 ملین ڈالر کی امداد دی ہے۔

تنظیم کے عملی کاموں میں سب سے اہم عنصر مقامی سطح پر لوگوں کو منظم کرنا اور ان کے مطالبات کے حق میں مہم منظم کرنا شامل ہے۔

'بلیک لائیوز میٹر' تحریک میں شامل افراد نسلی امتیاز اور غلامی کی علامات کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
'بلیک لائیوز میٹر' تحریک میں شامل افراد نسلی امتیاز اور غلامی کی علامات کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

اپنے مشن کو عملی جامہ پہنانے میں 'بلیک لائیوز میٹر' ںے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بخوبی استعمال کیا ہے۔ شروع ہی سے اس تحریک نے فیس بک اور ٹوئٹر جیسے پلیٹ فارم کو اپنے بیانیے اور پیغام رسانی کے لیے استعمال کر کے اپنی تحریک کو فعال رکھا ہے۔

مختلف ریاستوں اور شہروں میں افریقی امریکی برادری کی نمایاں شخصیات کی اس تحریک میں شمولیت نے بھی اس کے کام کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

رواں ماہ ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سفید فام اکثریتی آبادی کے علاوہ تقریباً تمام امریکی برادریوں کی شرکت نے اس تحریک کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG