رسائی کے لنکس

logo-print

'حکومت، اوگرا اور آئل کمپنیاں سب پیٹرول بحران کے ذمہ دار تھے'


فائل فوٹو

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں قائم ایک غیر سیاسی تھنک ٹینک نے ملک میں پیٹرول کے حالیہ بحران کا ذمہ دار حکومت کی ترسیل میں بدانتظامی اور آئل پرائسنگ کے طریقۂ کار کو قرار دیا ہے۔

'اسلام آباد پالیسی انسٹی ٹیوٹ' (آئی پی آئی) نے اپنی ایک جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جون میں تیل کی ترسیل کا متاثر ہونا اور ملک بھر میں پیٹرول کی قلت کی وجہ پیٹرولیم ڈویژن اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی غیر ذمہ داری تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے تیل کی قلت کے باعث پیدا ہونے والے بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی روایت دہرائی اور اس مقصد کے لیے کسی 'قربانی کے بکرے' کی تلاش شروع کر دی گئی۔

یاد رہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی طلب اور قیمتوں میں کمی کے بعد وزارتِ پٹرولیم نے جون 2020 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی تھی جس کے بعد ملک کے بیشتر علاقوں میں تیل نایاب ہو گیا تھا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا نوٹس لیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اس بحران کی تحقیقات کرائی جائیں گی لیکن تحقیقاتی کمیٹی تاحال قائم نہیں ہو سکی ہے۔

'آئی پی آئی' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے 25 مارچ کو پیٹرول کی طلب میں 40 فی صد کمی کی وجہ سے خام تیل اور پیٹرول کی درآمد روک دی جو مناسب فیصلہ ثابت نہیں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کے باعث کیے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی طلب میں کمی ہوئی جس کی وجہ سے کئی آئل ریفائنریز بھی بند ہو گئی تھیں۔

خام تیل کی عدم دستیابی بھی ریفائنریز بند ہونے کی ایک وجہ بنی اور خام تیل کی درآمد نہ ہونے کی وجہ سے تیل کے 14 دن کے ذخائر برقرار رکھنا مشکل ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق تیل کی درآمد روکنے کے فیصلے کی وجہ سے درآمدی ترسیل کا سلسلہ ٹوٹ گیا اور جون 2020 میں جیسے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی طلب بڑھی تو ملک میں بحران پیدا ہو گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون 2020 میں تیل کی اوسطاً یومیہ کھپت 17 ارب ٹن سے بڑھ کر 26 ارب ٹن تک پہنچ گئی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں 21 دن کا اسٹاک برقرار نہ رکھ سکیں۔

'آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی' (او جی ڈی سی ایل) کے سابق ڈائریکٹر جنرل نجم کمال کہتے ہیں کہ حالیہ پیٹرولیم بحران حکومتی منصوبہ بندی کی ناکامی تھی جس میں زمینی صورتِ حال کا ادراک نہیں کیا گیا تھا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بحران میں آئل کمپنیوں کی ناکامی بھی شامل ہو گی لیکن عوام کے مفاد کا تحفظ پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا نے کرنا ہوتا ہے جس میں وہ ناکام رہے ہیں۔

نجم کمال کے بقول پیٹرولیم سے وابستہ سرکاری حکام صورتِ حال سے ہم آہنگ نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے صورتِ حال کا صحیح طرح سے جائزہ لیا۔ اگر روزانہ کی بنیاد پر صورتِ حال کا جائزہ لیا جاتا تو بحران پر قابو پانے کے مناسب اقدامات کیے جا سکتے تھے۔

'آئی پی آئی' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل قیمتوں کا تعین کرنے کے لیے نافذ 'پرائسنگ فارمولا' بھی پیٹرولیم کے بحران کی وجہ بنا۔ کیوں کہ حکومت پیٹرول کی قیمتِ فروخت کا تعین سرکاری انتظام میں چلنے والے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی جانب سے خریدی جانے والی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے مطابق کرتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ایس او نے اس وقت خریداری کی تھی جب عالمی منڈی میں پیٹرول کم قیمت میں دستیاب تھا۔ حکومت نے اسی قیمتِ خرید کے مطابق قیمتِ فروخت مقرر کی جب کہ دیگر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اس وقت پیٹرول خریدنے سے روک دیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے جب تیل درآمد کرنے کی دوبارہ اجازت دی تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے مہنگے داموں پیٹرول خرید کر سستا بیچنا ممکن نہیں تھا۔

خیال رہے کہ 'آئی پی آئی' کی یہ رپورٹ مرتب کرنے والے ڈاکٹر الیاس فاضل آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) کے سربراہ اور اوگرا بورڈ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG