رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا کی اطلاع چین نے نہیں بلکہ وہاں موجود دفتر نے دی تھی: عالمی ادارہ صحت


(فائل فوٹو)

عالمی ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ ادارے کو وائرس سے متعلق اطلاع سب سے پہلے چین نے نہیں بلکہ وہاں قائم ڈبلیو ایچ او کے دفتر نے دی تھی۔

اس سے قبل ادارے کا یہ موقف رہا ہے کہ اسے وائرس سے متعلق اطلاع چین سے موصول ہوئی تھی لیکن ادارے نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ اطلاع کس نے دی تھی۔

ادارے کی جانب سے وائرس سے متعلق گزشتہ ہفتے ایک ٹائم لائن جاری کی گئی ہے۔

ٹائم لائن میں بتایا گیا ہے کہ 31 دسمبر 2019 کو ادارے کے چین میں موجود دفتر نے چین کے شہر ووہان کے میونسپل ہیلتھ کمیشن کی ویب سائٹ میں 'وائرل نمونیہ' سے متعلق معلومات سے علاقائی دفتر کو آگاہ کیا۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ادارے نے یکم اور دو جنوری کو چین سے باضابطہ طور پر اس 'وائرل نمونیہ' سے متعلق معلومات طلب کیں جو تین جنوری کو فراہم کی گئیں۔

چین پر امریکہ سمیت کئی ملک یہ تنقید کرتے رہے ہیں کہ اس نے وائرس سے متعلق دنیا کو آگاہ کرنے میں جان بوجھ کر تاخیر کی جس سے وائرس دنیا بھر میں پھیلا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وائرس سے متعلق معلومات کی عدم فراہمی اور ناکافی اقدامات کا جواز پیش کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کی امداد روک لی تھی۔

عالمی ادارہ صحت کا ہیڈ کوارٹر (فائل فوٹو)
عالمی ادارہ صحت کا ہیڈ کوارٹر (فائل فوٹو)

ادھر دنیا بھر میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے مجموعی کیسز ایک کروڑ دس لاکھ کے قریب پہنچ گئے ہیں جب کہ امریکہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 57 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

امریکہ میں گزشتہ نو روز کے دوران سات مرتبہ کیسز کا گزشتہ ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے جب کہ 40 ریاستوں میں کیسز بڑھ رہے ہیں۔

امریکی ریاست فلوریڈا میں جمعے کو مزید 9488 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ اس سے ایک روز قبل یہاں 10 ہزار کیس رپورٹ ہوئے تھے۔

فلوریڈا میں حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کے انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں صرف 20 فی صد گنجائش باقی ہے جب کہ ریاست ایریزونا کے حکام کا کہنا ہے کہ یہاں آئی سی یوز میں صرف نو فی صد گنجائش باقی ہے۔

امریکہ کے بعد برازیل میں بھی کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے جہاں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 15 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔

جمعے کو برازیل کے صدر نے ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت پیدل چلنے اور ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے افراد پر ماسک کی پابندی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ البتہ اُنہوں نے اسکولوں، گرجا گھروں اور دکانوں میں ماسک کی پابندی کی شق مسترد کر دی ہے۔

صدر کو شروع میں کرونا وائرس کو سنجیدہ نہ لینے کے معاملے پر طبی ماہرین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ادھر بھارت میں بھی کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے۔ ملک میں ہفتے کو مزید ریکارڈ 22 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ وکٹوریا میں گزشتہ ہفتے لگ بھگ 10 ہزار افراد نے وائرس کو محض سازشی تھیوری قرار دیتے ہوئے ٹیسٹ کرانے سے انکار کیا ہے۔

امریکی اخبار 'نیو یارک ٹائمز' کی رپورٹ کے مطابق وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں کامیاب رہنے والے ملک آسٹریلیا نے ریاست وکٹوریا میں تارکین وطن کی اکثریت پر مشتمل لگ بھگ تین لاکھ آبادی میں لاک ڈاؤن لگا دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG