رسائی کے لنکس

امریکہ: ہول سیل اسٹورز میں ٹوائلٹ پیپرز کی خریداری کی حد مقرر


فائل فوٹو۔

ممبرشپ کی بنیاد پر اشیا فروخت کرنے والی امریکہ کی ہول سیل ریٹیل کمپنی ’کاسکو‘ نے کرونا وائرس کیسز میں اضافے کے بعد باتھ ٹشوز، رول ٹاولز اور پانی کی بوتلوں کی خریداری میں یک دم اضافے کو دیکھتے ہوئے ان اشیا کی فروخت پر حد مقرر کردی ہے۔

لیکن بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کی طرح اس بار ان اشیا کی خریداری پر حد مقرر کرنے کی واحد وجہ کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے پھیلنے والی تشویش نہیں۔ بلکہ سپلائی چین سے متعلق پیش آنے والی مسائل بھی اس کا سبب ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے گزشتہ برس بھی وبا کی روک تھام کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں نے گھبراہٹ میں سامان ذخیرہ کرنا شروع کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس امریکہ میں جب کرونا وبا کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تو گھبراہٹ کا شکار شہریوں نے بڑی تعداد میں ضروری اشیا کی خریداری شروع کردی تھی۔

اس کے بعد مختلف بڑے اسٹورز کے خالی شیلف کی تصاویر بھی سامنے آئی تھیں اور خاص طور پر ٹوائلٹ پیپر کی مانگ میں بے انتہا اضافہ ہوگیا تھا۔ ٹوائلٹ پیپر کی بے دریغ خریداری وبا کے باعث پھیلنے والی تشویش اور گھبراہٹ کی علامت کے طور پر سامنے آئی تھی۔

گزشتہ برس نومبر میں جب 22 ریاستوں نے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا بڑے اسٹورز پر سے ٹوائلٹ پیپرز کی خریداری میں یک دم اضافہ ہوگیا تھا۔

ٹوائلٹ پیپر سے بنے عروسی لباس
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:57 0:00

یہ اضافہ اتنا بڑا تھا کہ امریکہ میں ٹوائلٹ پیپر فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی پراکٹر اینڈ گیمبل کا کہنا تھا کہ ٹوائلٹ پیپر کی طلب پوری کرنے کے لیے ہفتے کے سات دن اور دن کے 24 گھنٹے پلانٹ چلانا پڑ رہے ہیں۔

اس اضافی خریداری کو روکنے کے لیے کاسکو نے گزشتہ برس بھی بنیادی اشیائے ضرورت کی خریداری پر حد متعین کر دی تھی۔

کاسکو کے چیف فنانشل آفیسر رچرڈ گلینٹی کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس بھی صفائی ستھرائی کے سامان کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔ اس برس نقل و حرکت میں پیش آنے والی رکاوٹ کے باعث اسٹورز کو اشیا کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

رائٹرز کے مطابق وبا کے دوران عائد کی گئی مختلف پابندیوں کی وجہ سے بندرگاہوں پر سامان رکا ہوا ہے۔

اس کے علاہ افرادی قوت میں کمی کے باعث اشیا کی نقل و حرکت پر بڑھنےو الی لاگت کی وجہ سے کاسکو سمیت ریٹیل اسٹورز کی چینز کا منافع بھی متاثر ہوا ہے۔

کاسکو کمپنی کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک اشیا کے کنٹینرز کے لیے وہ چھ گنا ادائیگیاں کر رہے ہیں۔

گلینٹی نے امریکی چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خام مال، لیبر پر آنے والے اخراجات، کنٹینرز، ٹرک اور ڈرائیوروں کی کمی کی وجہ سے سامان کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔

ویکسی نیشن کے بعد آؤٹ ڈور سرگرمیوں میں اضافہ ہوا جس سے کاسکو کے اسٹورز پر کھیلوں کے سامان اور زیورات کی خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی لیے گزشتہ برس لاک ڈاؤن کے دوران متاثر ہونے والی فروخت بحال ہو رہی تھیں۔

گلینٹی نے سی این این اسے بات کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ کاغذ اور گودے سے تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں میں چار سے آٹھ فی صد تک اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح کچرے ٹھکانے لگانے کے لیے استعمال ہونے والے پلاسٹک کے تھیلوں، ڈسپوزیبل کپ اور پلیٹس وغیرہ کی قیمتیں بھی پانچ سے 11 فی صد بڑھ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایلمونیم فوائل اور مشروبات کے کین وغیرہ کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔

واضح رہے کہ ’کاسکو‘ امریکہ میں ہول سیل فروخت کی ملٹی نینشل چین ہے۔

اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے لی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG