رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں مشہور برینڈ کا اسٹور ہائی اسکول میں تبدیل


اسکول میں برقی سیڑھیاں بھی موجود ہیں (اے پی)

طلبہ کو اپنے اسکول میں برقی سیڑھیاں اور دیواروں پر معروف برانڈز کے پوسٹرز لگے ہوئے دیکھنے کو ملیں، تو انہیں کیسا محسوس ہوگا۔ یہ سننے میں تھوڑا عجیب لگ رہا ہے لیکن امریکہ کی ریاست ورمونٹ میں ایک بڑے شاپنگ اسٹور نے حال ہی میں ایسا کیا ہے۔

طلبہ چند برس قبل جس عمارت میں شاپنگ کے لیے آتے تھے، وہاں اب تعلیم حاصل کرنے کے لیے آ رہے ہیں۔

امریکی ریاست ورمونٹ کے شہر برلنگٹن کے ڈاؤن ٹاؤن مال میں شاپنگ کے لئے مشہور اسٹور Macys کی ایک سابقہ شاخ کو ہائی اسکول میں تبدیل کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق ​ڈاؤن ٹاؤن برلنگٹن ہائی اسکول کو چھ ماہ بند رہنے کے بعد چار مارچ کو دوبارہ کھولا گیا ہے۔

انتظامیہ نے ڈاؤن ٹاؤن برلنگٹن ہائی اسکول کو اس وجہ سے بند کیا تھا کیوں کہ عمارت کی تعمیر نو کے دوران بلڈنگ اور مٹی میں زہریلے صنعتی کیمیکلز پائے گئے تھے۔

اس صورتِ حال میں کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث طلبہ زیادہ تر اپنے گھروں سے آن لائن کلاسز لے رہے تھے۔

اسکول بند ہونے کے بعد انتظامیہ ایک ایسی جگہ کی تلاش میں تھی جہاں طلبہ خود آ کر اپنے تعلیم جاری رکھ سکیں۔

اسی اثنا میں انتظامیہ کی توجہ ایک ایسے ڈپارٹمنٹل اسٹور پر مرکوز ہوئی جو 2018 میں بند کر دیا گیا تھا۔

ہائی اسکول کے سپرنٹنڈنٹ ٹام فلینیگن نے بتایا کہ ہم نے ڈپارٹمنٹل اسٹور کو اسکول میں تبدیل کرنے کے لیے ایک آرکیٹیکٹ سے بات کی اور یہ پوچھا کہ کیا ایسا ممکن ہے یا نہیں؟

بعد ازاں اسٹور کی عمارت کو ریاست کے تعاون سے ایک اسکول کے ماڈل میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کام پر 35 لاکھ ڈالر لاگت آئی۔

اسٹور میں الگ الگ کلاس رومز بنانے کے لیے عارضی دیواریں کھڑی کی گئی ہیں جب کہ اسے اسکول میں تبدیل کرتے وقت اس بات کو مدِ نظر رکھا گیا یے کہ ان تبدیلیوں میں اسٹور کی اپنی پہچان ماند نہ پڑ جائے۔

یہی وجہ ہے کہ کلاس رومز میں کپڑوں کے مشہور برانڈز کے پوسٹرز لگے ہوئے ہیں جب کہ سفید چمچماتے فرش پر کہیں کہیں لال رنگ کا قالین بھی بچھا ہوا ہے۔

اسکول کی لائبریری اسٹور کے چائنا ڈپارٹمنٹ میں بنائی گئی ہے جہاں کتابوں کو ہلکی روشنی والے شیلف میں رکھا گیا ہے۔

علاوہ ازیں جم کے لیے اسٹور کے ویئر ہاؤس کا انتخاب کیا گیا ہے جو ابھی تک نا مکمل ہے۔

اسٹور کو اسکول میں تبدیل کرنے کے حوالے سے 15 سالہ طالب علم فریش مین موسز ’اے پی‘ کو بتایا کہ یہ بیک وقت عجیب اور اچھا بھی لگ رہا ہے، اسکول بننے سے قبل میں اور میرے گھر والے اس اسٹور سے خوب خریداری کیا کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس جگہ کے عادی ہو جائیں گے جب کہ یہاں موجود برقی سیڑھیاں اور لفٹس ایک بہترین سہولت ہیں۔

'یہ گھر میں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے رہنے سے بہتر ہے'

اسکول کی سینئر طالبہ لائلا آینگر نے کہا کہ جہاں ہر کوئی یہ شکایت کر رہا ہے کہ یہاں بہت شور ہے وہیں مجھے لوگوں کے ارد گرد رہنے پر بہت خوشی ہے۔ ان کے بقول یہ گھر میں رہ کر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے رہنے سے بہتر ہے۔

ہائی اسکول کے سپرنٹنڈنٹ ٹام فلینیگن کا کہنا ہے کہ یہاں کے کلاس رومز دیگر اسکولوں کی طرح دور دور نہیں بلکہ آپس میں جُڑے ہوئے ہیں اور اس وقت لگ بھگ ایک ہزار کے قریب طلبہ اسکول آ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ فی الحال پرانے اسکول کی بلڈنگ کو چند برس کے لیے کرائے پر دے دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG