رسائی کے لنکس

عالمی فورم پر پاکستان بھارت کے خلاف جارحانہ رویہ کیوں اختیار کرنے جا رہا ہے؟


پاکستان نے اپنے مشرقی ہمسایہ ملک بھارت پر ملک میں دہشت گردی کے واقعات کی پشت پناہی کرنے اور ان کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور اس بابت ثبوت ایک دستاویز کے ذریعے اقوامِ متحدہ میں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کی وزیرِمملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ اس دستاویز میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی لاہور میں واقع رہائش گاہ کے قریب جون 2021 میں ہونے والے کار بم دھماکے میں بھارت کے ملوث ہونے کے تفصیلی ثبوت اور معلومات شامل ہوں گی۔

واضح رہے کہ بھارت نومبر 2008 میں بھارت کے شہر ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار حافظ سعید کو سمجھتا ہے اور پاکستان سے ان کی حوالگی کا مطالبہ بھی کرچکا ہے۔

پاکستان اور بھارت دونوں ایک دوسرے پر اپنے ملکوں کے اندر دہشت گردی کی سرگرمیوں کی سرپرستی اور پشت پناہی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ تاہم دونوں کی جانب سے ہی ایک دوسرے کے الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

اس سے قبل پاکستان نے نومبر 2020 میں پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کی مبینہ پشت پناہی کا ڈوزیئر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ شیئر کیا تھا۔ جس میں بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ کا الزام لگایا گیا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے بھارت پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام ایک ایسے وقت میں عائد کیا گیا ہے جب بھارت بھی تسلسل کے ساتھ پاکستان پر دہشت گردی کا الزام عائد کرتا آ رہا ہے۔

حال ہی میں بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر نے پاکستان کا نام لیے بغیر اس پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا ہے۔

پاکستان نے بھارت کے خلاف دہشت گردی کے مبینہ ثبوت ایک ایسے وقت میں عالمی برداری کے سامنے پیش کرنے کا اعلان کیاہے جب حال ہی میں پاکستان کی فوج کے نئے سربراہ جنرل عاصم منیر نے جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے والی 'لائن آف کنٹرول' کے دور ے کے دوران سرحد پار سے آنے سخت بیانات کے ردعمل میں کہا تھا کہ پاکستان سرحد پار سے کسی بھی مہم جوئی کا بھر پور جواب دے گا۔

خیال رہے کہ بھارت نے اگست 2019 میں نئی دہلی کے زیرِانتظام کشمیر کی نیم خودمختار آئینی حیثیت کو ختم کردیا تھا، جس کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات معطل ہیں اور سفارتی تعلقات بھی معمول کے مطابق نہیں ہیں۔

کیا پاکستان بھارت کے درمیان بات چیت کا کوئی امکان ہے؟

بین الاقوامی امور کےتجزیہ کار ڈاکٹر ظفر جسپال کہتے ہیں کہ پاکستان گزشتہ دو برسوں سے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے مثبت کوشش کررہا تھا لیکن ان کےبقول اس کے باوجود نئی دہلی کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا ۔

لیکن تجزیہ کار ظفر جسپال کہتے ہیں اب پاکستان نے بھی بھارت کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے کیوں کہ پاکستان کو اب بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر آنے کی کوئی امید نہیں ہے ۔ اسی لیے ان کےبقول اب پاکستان نے بھارت کےتخربیی کارروائیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا معاملہ سفارتی اور سیاسی طور پر شدت سے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئی دہلی میں مقیم دفاعی امور کے تجزیہ کار پراوین ساہنی اس بات سے اتفا ق کرتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان فوری طورپر تعلقات بہتر ہونے کا کوئی امکان نہیں ہیں، ایسے میں جب آئندہ برس بھارت کی کئی ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں۔

ان کے بقول اس کے باوجود وہ اس بات کے حق میں ہیں کہ پاکستان اور بھارت کو امن کی کوششوں کو جاری رکھنا چاہیے۔

ساہنی کہتے ہیں کہ ایک بڑا ملک ہونے کےناتے بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں پہل کرنی ہوگی۔ دوسری جانب پاکستان فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر اگر کوئی ایسا بیان دیتے ہیں کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور کشمیر کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر کشمیر پر بات چیت کے لیے تیار ہے ۔اور پاکستان اپنی توجہ علاقائی رابطوں پر مرکوز رکھنا چاہتا ہے جس سے تجارت بڑھے اور خطے میں خوشحالی آئے۔ تو ایسا بیان سامنے آنے کی صورت میں چین بھی اسے سراہے گا اور بھارت میں بھی اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

البتہ تجزیہ کار ظفر جسپال کہتے ہیں کہ پاکستان کی سابقہ حکومت نے ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی دی تھی جس کا محور جیو پالیٹکس کے بجائے جیو اکنامکس تھا۔ اور پاکستان نے خطے کے امن و امان کے لیے علاقائی تنازعات کے حل اور کشیدگی کم کرنےکی بات کی تھی۔ تاہم بھارت کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا اور بھارت کی طرف سے تسلسل کے ساتھ پاکستان کے خلاف جارجاںہ بیانات کا سلسلہ جاری رہا۔

دوسری جانب کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ پرفیسر ڈاکٹر نعیم احمد کہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان ایک دوسرے پر تسلسل سے دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزام عائد کرتے ہیں لیکن دونوں ہی انہیں مسترد کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے لیے مالی معاونت روکنے سے متعلق عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے باہر آنے کےبعد اب پاکستان اس معاملے کو جارحانہ انداز میں اٹھار رہا ہے ۔

یادر ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو چار سال بعد رواں برس اکتوبر میں گرے لسٹ سے خارج کر دیا تھا۔

پاکستان کی وزیرِ مملکت برائے خارجہ خارجہ حنا ربانی کھر نے نیوز کانفرنس میں عالمی برداری خاص طور پر اقوام متحدہ اور ایف اے ٹی ایف پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے مبینہ طور پر ملوث ہونے پر نئی دہلی کو جواب دہ ٹھہرائیں۔

پاکستان کی طرف سے زیادہ جارحانہ انداز میں بھارت کے خلاف عالمی پلیٹ فارم پر جانے کے اعلان کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پاکستان میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کرانے میں بھارت کا بھی کردار تھا اور اسی لیے اب پاکستان کی بھی کوشش ہے کہ ایف اے ٹی ایف بھارت کی طرف سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کی مبینہ فندنگ فراہم کرنے کے الزامات کا جائزہ لے۔

نعیم احمد کہتے ہیں کہ شاید ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ ے باہر آنے کے بعد اسلام آباد کو یہ حوصلہ ہوا کہ اب پاکستان بھی جارحانہ طور پر دنیا کے سامنے پاکستان میں ہونے والی بعض تخریبی سرگرمیوں میں بھارت کے مبینہ کردار کو سامنے لا سکتا ہے۔لیکن ان کے بقول اس بات کا امکان کم ہے کہ پاکستان کو اس حوالے سے کوئی کامیابی ہو کیوں کہ بھارت آبادی اور معیشت کے حوالے سے عالمی سطح پر اثر وسوخ کا حامل ہے۔

XS
SM
MD
LG