رسائی کے لنکس

logo-print

فیصلے میں 'ابہام' یا کوئی اور وجہ، شہباز شریف ضمانت پر رہا کیوں نہ ہو سکے؟


منی لانڈرنگ کیس میں قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف شہباز شریف کی ضمانت پر رہائی کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے دو رُکنی بینچ کے تحریری فیصلے میں ایک جج نے ضمانت منظور جب کہ دوسرے جج نے ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اختلافی نوٹ تحریر کیا ہے۔ معاملہ اب لاہور ہائی کورٹ کے ریفری جج کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب عدالتِ عالیہ لاہور کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس سرفراز ڈوگر نے ضمانت منظور جب کہ جسٹس اسجد جاوید نے مسترد کرنے کا فیصلہ دیا ہے جس پر یہ معاملہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ قاسم خان کو بھجوا دیا گیا ہے جو اس پر حتمی فیصلے کے لیے ریفری جج مقرر کریں گے۔

جسٹس سرفراز ڈوگر نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ انہوں نے جسٹس اسجد جاوید کی مشاورت سے ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔ جب مختصر فیصلہ لکھنے کا وقت آیا تو جسٹس اسجد نے کہا کہ وہ اِس فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھیں گے۔ تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس اسجد جاوید نے کہا کہ انہوں نے عدالت میں ضمانت مسترد کرنے کا کہا۔ چیمبر میں بھی ضمانت مسترد کرنے کا کہا مگر میرے ساتھی جج نے اپنے طور پر ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔

تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس اسجد جاوید نے کہا کہ اگلے چند منٹ میں جسٹس سرفراز ڈوگر نے مختصر فیصلہ (شارٹ آرڈر) لکھ کر اُنہیں فیصلے پر دستخط کے لیے بھجوا دیا، حالاں کہ اس موقع پر شارٹ آرڈر نہیں بنتا تھا۔ ضمانت دینے کے اُن کے صاف انکار کے باوجود اعلان کر دیا گیا جس پر جسٹس اسجد جاوید نے کہا کہ وہ یہ معاملہ فوری طور پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے علم میں لے آئے۔

شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں گزشتہ سال ستمبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔
شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں گزشتہ سال ستمبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔

واضح رہےکہ عدالتِ عالیہ لاہور کے دورکنی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر رواں ماہ 14 اپریل کو سماعت کر کے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت کے ریڈر نے فیصلہ محفوظ کیے جانے کے کچھ دیر بعد کمرۂ عدالت میں ضمانت منظور کرنے کا اعلان کیا، لیکن تحریری فیصلے میں جسٹس اسجد نے ضمانت سے اختلاف کیا ہے۔

عدالتِ عالیہ لاہور کی جانب سے جاری کردہ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کیس میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ شہباز شریف کی رہائی کے معاملے پر ریفری جج مقرر کریں۔

نیا بینچ تشکیل

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے 19 اپریل سے شروع ہونے والے ہفتے کے لیے ججز کے نئے روسٹر کے مطابق جسٹس سرفراز ڈوگر کو لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ جب کہ جسٹس اسجد جاوید گورال کو لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ میں ٹرانسفر کر دیا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے پرنسپل سیٹ پر نیب سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لیے جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل نیا ڈویژن بینچ تشکیل دیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کا مؤقف

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ضمانت کے اعلان کے چار روز گزرنے کے بعد اختلافی نوٹ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ چار دن سے حکم لینے جا رہے تھے ہر مرتبہ جواب دیا گیا کہ ابھی تحریری حکم لکھا جا رہا ہے۔

مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کی ضمانت منظور ہونے، باضابط اعلان اور ذرائع ابلاغ پر خبر نشر ہونے کے چار دن بعد اختلافی نوٹ حیران کن ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ضمانت منظور ہونے کا اعلان ہوا ہو لیکن تحریری حکم نامے پر دستخط نہیں ہوئے۔ یہ بہت ہی تکلیف دہ ہے۔

قانونی ماہرین کی رائے

ماہرِ قانون اور سینئر وکیل اظہر صدیق سمجھتے ہیں کہ کسی بھی فیصلے میں ڈبل بینچ کا اختلافی نوٹ آ جانا کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ اِس طرح کے معاملات عدالت میں ہو جاتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اظہر صدیق نے کہا کہ اِس کیس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریری فیصلے کے پہلے صفحے پر لکھا ہے کہ فیصلہ عدالت نے نہیں سنایا بلکہ نائب قاصد نے باہر آ کر یہ فیصلہ بتایا تھا۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ کے قواعد و ضوابط کے مطابق یہ فیصلہ ریفری جج کو بھجوایا جائے گا۔ وہ اِس کیس کے نئے سرے سے دونوں پارٹیوں شہباز شریف اور نیب کو سنیں گے اور پھر فیصلہ دیں گے۔

اظہر صدیق نے ایک پرانے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ہی صورتِ حال 2016 میں حدیبیہ پیپلز ملز کیس میں بھی ہوئی تھی جس میں دو ججوں میں اختلافی نوٹ آ گیا تھا۔ جسے ریفری جج کو بھجوا دیا گیا تھا۔

اظہر صدیق کے مطابق حدیبیہ والے کیس میں اُس وقت کے جج جسٹس فرخ عرفان نے کہا تھا کہ ریفرنس ختم جب کہ ڈبل بینچ میں شامل دوسرے جج جسٹس خواجہ امتیاز نے دوبارہ تفتیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس کے بعد یہ معاملہ جسٹس سردار شمیم صاحب کے پاس بھجوا دیا گیا تھا۔ اظہر صدیق نے بتایا کہ جسٹس سردار شمیم احمد نے ریفرنس ختم کرنے والے جج کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

ماہرِ قانون اور سینئر وکیل میاں علی اشفاق کہتے ہیں کہ پاکستان کی عدلیہ مختلف فیصلوں میں اپنے اختلافی نوٹ دیتی رہتی ہے اور ایسا عدالت میں ہو جاتا ہے۔ لیکن جس طرح سے اِس کیس کے اختلافی نوٹ میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

میاں علی اشفاق نے کہا کہ درخواست ضمانت کے فیصلوں کے علاوہ بھی سندھ ہائی کورٹ، لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان اپنے اختلافی نوٹ دیتے رہتے ہیں۔

لیکن اُن کے بقول اِس سے قبل ایسی صورتِ حال پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی جس میں ایک معزز جج دوسرے جج کے حوالے سے اختلافی نوٹ میں ایسے ریمارکس لکھے۔

میاں علی اشفاق نے کہا کہ مذکورہ کیس میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ یہ کیس ریفری جج یا امپائر جج کے پاس بھیج دیں گے جو اِس کو سنیں گے۔ میاں علی اشفاق کے مطابق ریفری جج اِس کیس میں دونوں ججوں کے تحریری فیصلے کو پڑھ کر بھی فیصلہ سنا سکتے ہیں اور دوسری صورت میں ریفری جج کیس کی دوبارہ سماعت بھی کر سکتے ہیں، جس میں فریقین کو سنا جائے گا۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف شہباز شریف نے ان کے خلاف دائر کیے گئے آمدن سے زائد اثاثہ کیس میں درخواست ضمانت دائر کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG