رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی صدور دستخطوں کے لیے ڈھیروں قلم کیوں استعمال کرتے ہیں؟


صدر بائیڈن ایگزیکٹو حکم ناموں پر دستخط کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

کیا آپ کو معلوم ہے کہ امریکی صدور سرکاری دستاویزات اور حکم ناموں پر دستخط کے لیے مختلف قلم استعمال کرتے ہیں۔ اگر نہیں تو ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ امریکہ میں سالہا سال سے یہ روایت چلی آ رہی ہے۔

جب بھی کوئی امریکی صدر صدارتی حکم نامے یا آئینی بل پر دستخط کرتا ہے تو اس کے سامنے ایک ڈبہ موجود ہوتا ہے جس میں کئی پین موجود ہوتے ہیں۔

حال ہی میں امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے جب حلف برداری کے بعد صدارتی حکم ناموں پر دستخط کیے تو اُنہوں نے نیوی کلر کے 'کراس سینچری 2' کے کئی قلم استعمال کیے۔

اٹھتر سالہ صدر بائیڈن نے جن ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے ہیں اُن میں وفاقی ملازمین کے دفتری اوقات میں ماسک لازم کرنے کے علاوہ کرونا وائرس کے بحران پر قابو پانے سے متعلق ہدایات شامل تھیں۔

جو بائیڈن نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق 2015 کے پیرس معاہدے میں واپسی اور عالمی ادارۂ صحت میں دوبارہ شمولیت کے ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے۔

ان دستاویزات پر دستخطوں کے دوران صدر بائیڈن سامنے رکھے گئے قلم استعمال کرتے رہے۔

امریکی کمپنی 'کراس' کی جانب سے بنائے گئے یہ قلم سالہا سال سے وائٹ ہاؤس میں صدارتی حکم ناموں اور اہم سرکاری دستاویزات پر دستخطوں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اس کمپنی کی بنیاد 1846 میں رکھی گئی تھی اور یہ امریکہ میں قلم بنانے والی سب سے پرانی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔

امریکی صدر لنڈن بی جانسن ڈاکٹر کنگ کو سول رائٹس ایکٹ پر دستخطوں کے بعد قلم تحفے کے طور پر دے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
امریکی صدر لنڈن بی جانسن ڈاکٹر کنگ کو سول رائٹس ایکٹ پر دستخطوں کے بعد قلم تحفے کے طور پر دے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

امریکی تاریخ میں اس بات کے واضح شواہد نہیں ملتے کہ ایک ہی دستاویز پر دستخط کے لیے زیادہ قلم استعمال کرنے کی روایت کتنی پرانی ہے۔ تاہم بعض مؤرخین کے مطابق یہ روایت کئی دہائیوں سے چلی آ رہی ہے اور یہ قلم اُن افراد کو تحفے میں دیے جاتے ہیں جو سرکاری دستاویزات اور قوانین کی تیاری میں شامل ہوتے ہیں۔

اس حوالے سے سابق امریکی صدر لنڈن بی جانسن کی مثال دی جاتی ہے۔ جنہوں نے 1964 میں مشہورِ زمانہ 'سول رائٹس ایکٹ' پر دستخط کے لیے کئی قلم استعمال کیے۔

جانسن نے اس ایکٹ پر دستخط کے لیے مبینہ طور پر 75 پین استعمال کیے۔

بعدازاں جانسن نے یہ قلم اس اہم قانون سازی میں شامل افراد اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو تحفے کے طور پر دیے جن میں شہری حقوق کے داعی ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر بھی شامل تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قلم سیاسی حربے کے طور پر بھی بطور تحفتاً دیے جاتے رہے ہیں۔

اوباما 2009 میں 'فیئر پے ایکٹ' پر دستخطوں کے بعد سماجی کارکن للی لیڈ بیٹر کو قلم تحفے کے طور پر دے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
اوباما 2009 میں 'فیئر پے ایکٹ' پر دستخطوں کے بعد سماجی کارکن للی لیڈ بیٹر کو قلم تحفے کے طور پر دے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

تجزیہ کاروں کے مطابق جانسن نے سول رائٹس ایکٹ پر دستخط کے لیے استعمال ہونے والا پہلا قلم مخالف جماعت ری پبلکن پارٹی کے ایک سینیٹر ایورٹ ڈرکسن کو دیا۔

لنڈن بی جانسن لائبریری کے ڈائریکٹر مارک لارنس نے نشریاتی ادارے 'سی این این' کو بتایا کہ لنڈن بی جانسن نے ان میں سے ایک قلم نائب صدر ہیوبرٹ ہمفری کو بھی دیا۔

لنڈن بی جانسن نے 1964 میں 'ٹیکس لا' پر دستخط کے لیے استعمال ہونے والے چار میں سے ایک قلم سابق صدر جان ایف کینیڈی لائبریری، ایک قلم اُن کی اہلیہ جیکولین کینیڈی اور ایک، ایک قلم اُن کے بچوں کو تحفے کے طور پر دیا۔

سابق صدر اوباما نے 2010 میں صحتِ عامہ سے متعلق قانون پر دستخطوں کے لیے 22 قلم استعمال کیے۔

اوباما نے صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد 2009 میں 'فیئر پے ایکٹ' پر دستخط کے لیے سات قلم استعمال کیے جس کے بعد اوباما نے یہ قلم قانون سازی میں معاونت کرنے والے افراد کو بطور تحفہ دیے۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے دورِ صدارت کے آغاز پر یہ روایت برقرار رکھی۔ تاہم کچھ عرصہ 'کراس سینچری 2' کے بعد وہ دوسرا قلم استعمال کرنے لگے۔

سابق صدور جیرالڈ فورڈ، رونلڈ ریگن، بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش اور براک اوباما بھی اپنے دورِ صدارت کے دوران 'کراس' کے بنے قلم استعمال کرتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG