رسائی کے لنکس

logo-print

وکی لیکس مقدمہ، امریکی فوجی کو 35 سال قید کی سزا


گزشتہ ہفتے میننگ نے عدالت کے سامنے اپنے فعل کی معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا خیال تھا کہ وہ سرکاری راز افشا کرکے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔

امریکہ کی ایک فوجی عدالت نے لاکھوں خفیہ سرکاری دستاویزات 'وکی لیکس' کو فراہم کرنے والے امریکی فوجی اہلکار براڈلے میننگ کو 35 سال قید کی سزا سنادی ہے۔

فوجی عدالت کی جج کرنل ڈینس لِنڈنے گزشتہ ماہ اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ 25 سالہ ملزم براڈلے میننگ پر استغاثہ کی جانب سے عائد کردہ 22 میں سے 20 الزامات درست ثابت ہوگئے ہیں۔

میننگ کو جن الزامات میں قصوروار ٹہرایاگیا تھا ان میں جاسوسی اور سرکاری رازوں کی چوری کے الزامات بھی شامل تھے جس پر انہیں زیادہ سے زیادہ 90 برس تک کی سزا ہوسکتی تھی۔ استغاثہ نے فوجی عدالت سے ملزم کو 60 سال قید کی سزا دینے کی استدعا کی تھی۔

میننگ کے وکلائے صفائی نے فوجی عدالت سے اپنے موکل کو کم مدت کی سزا دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت "میننگ سے ان کی جوانی نہ چھینے"۔

بدھ کو فوجی عدالت کی جج کرنل لِنڈ نے ریاست میری لینڈ میں واقع 'فورٹ میڈ' کے فوجی اڈے پر میننگ کو سزا سنائی جہاں ان کے خلاف 12 ہفتوں پر محیط کورٹ مارشل کی کاروائی بھی ہوئی تھی۔

جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ 25 سالہ سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار کو فوج میں ان کی ذمہ داریوں سے "بے عزتی کے ساتھ سبکدوش" کیا جارہا ہے جب کہ انہیں اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ بھی واپس قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے میننگ کو امریکہ کے فوجی قانون کے تحت جیل میں اچھے رویے کا مظاہرہ کرنے کی صورت میں قید کی کل مدت کا ایک تہائی حصہ مکمل کرنے کے بعد پیرول پر رہائی کا حق دار بھی قرار دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق میننگ کی سزائے قید ان کی گرفتاری کی تاریخ سے شمار کی جائے گی جو لگ بھگ ساڑھے تین سال بنتی ہے۔

میننگ نے 2009ء میں عراق میں بحیثیت انٹیلی جنس تجزیہ کار اپنی تعیناتی کے دوران میں سات لاکھ سے زائد خفیہ فوجی اور امریکی دستاویزات چرائی تھیں جنہیں انہوں نے بعد ازاں خفیہ سرکاری راز افشا کرنے والی ویب سائٹ 'وکی لیکس' کے حوالے کردیا تھا۔

ان دستاویزات میں دنیا بھر میں قائم امریکی سفارت خانوں سے واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کو بھیجے جانے والے سفارتی مراسلے اور عراق اور افغانستان میں جاری جنگوں سے متعلق محکمہ دفاع کی رپورٹیں بھی شامل تھیں۔

میننگ اور ان کے وکلا نے کورٹ مارشل کی کاروائی کے دوران میں موقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے یہ دستاویزات "نیک مقصد" کے لیے جاری کی تھیں تاکہ دنیا کو عراق اور افغانستان کی جنگوں میں امریکہ کے کردار کی سچائی سے آگاہ کیا جاسکے۔

گزشتہ ہفتے میننگ نے عدالت کے سامنے اپنے فعل کی معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا خیال تھا کہ یہ کام کرکے وہ لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ان کے اس اقدام کا مقصد لوگوں اور امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچانا ہرگز نہیں تھا۔ امریکی فوجی نے عدالت سے استدعا کی تھی وہ انہیں کالج جانے کا موقع فراہم کرے تاکہ، ان کے بقول، وہ کارآمد شہری بن سکیں۔

تاہم استغاثہ نے میننگ کی جانب سے دستاویزات کے اجرا کو امریکی مفادات کے لیے "تباہ کن" قرار دیتے ہوئے ان کے فعل کو سوچی سمجھی کاروائی قرار دیا تھا۔
XS
SM
MD
LG