رسائی کے لنکس

وکی لیکس مقدمہ: میننگ کو بدھ کے روز سزا ہوگی


پیر کے روز حتمی دلائل کے موقع پر فوجی استغاثہ، کپتان جو مورو نے کہا کہ وکی لیکس کو 700000سے زائد دستاویزات فراہم کرنے پر میننگ کو 60برس تک کی سزا سنائی جائے

ایک امریکی فوجی جج نے کہا ہے کہ بدھ کے روز آرمی پرائیوٹ بریڈلی میننگ کو سزا سنائی جائے گی، جن پر خفیہ دستاویزات افشا کرکے وِکی لیکز کی ویب سائٹ کو فراہم کرنے کا الزام ہے۔

جج کرنل ڈینس لِنڈ نے منگل کو 25برس کے فرسٹ کلاس میننگ کے سزا کے بارے میں غور و خوض کیا۔ اُنھوں نےسزا سنانے کے لیے میری لینڈ میں واقع فورٹ میڈ فوجی اڈے کا انتخاب کیا، جس مقام پر بدھ کی صبح سزا سنائی جائے گی، جہاں کورٹ ماشل کی کارروائی چلتی رہی ہے۔

پیر کے روز حتمی دلائل کے موقع پر فوجی استغاثہ، کپتان جو مورو نے کہا کہ وکی لیکس کو 700000سے زائد دستاویزات فراہم کرنے پر میننگ کو 60برس تک کی سزا سنائی جائے۔

خفیہ سرکاری راز افشا کیے جانے کا یہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا واقع ہے۔

مورو نے کہا کہ میننگ کی طرف سے امریکی محکمہ خارجہ کی سفارتی تاروں اور عراق اور افغانستان کے میدانِ جنگ کے بارے میں رپورٹیں ایک ’تباہ کُن‘ نوعیت کا معاملہ ہے۔

تاہم، میننگ کے وکلائے دفاع نے لِنڈ کے لیے نرمی برتنے کی وکالت کی۔

ڈفنس اٹارنی، ڈیوڈ کومبس نےایسی سزا دیے جانے پر زور دیا ’جس سے اُس کی جوانی نہ چھینی جائے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ میننگ کی بحالی ممکن ہے، اور اُنھیں قید نہ کیا جائے۔


لِنڈ نے میننگ کو 20الزامات میں سزاوار ٹھہرایا ہے، جن میں جاسوسی بھی شامل ہے، اور اُنھیں 90برس کی قید ہو سکتی ہے۔

گذشتہ ہفتے، میننگ نے امریکہ کو نقصان پہنچانے پر معافی مانگی تھی، اور اُنھوں نے جج کے سامنے یہ استدلال پیش کیا کہ اُنھیں کالج جانے کا موقع دیا جائے، تاکہ وہ کارآمد شہری بن سکیں۔
XS
SM
MD
LG