رسائی کے لنکس

گوانتاموبے پر وکی لیکس کے تازہ انکشافات اور ردعمل


گوانتاموبے پر وکی لیکس کے تازہ انکشافات اور ردعمل
گوانتاموبے پر وکی لیکس کے تازہ انکشافات اور ردعمل

وکی لیکس کی ایک حالیہ شائع میں امریکی فوج کی خفیہ دستاویزات میں گوانتانامو بے میں زیر حراست سات سو قیدیوں سے متعلق انکشافات کیے گئے ہیں۔ امریکی صدر براک اوباما نے اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی اس فوجی حراستی مرکز کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ جو تاحال پورا نہیں ہوسکا اور نہ ہی ان کی انتظامیہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد پر سویلین عدالت میں مقدمہ چلاپائی ہے۔ تجزیہ کار یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ وکی لیکس کےتازہ انکشافات سے گوانتانامو کے معاملے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

وکی لیکس کی جانب سے شائع کی گئی تازہ دستاویزات میں تقریباً ان تمام قیدیوں کےبارے میں معلومات ہیں جنہیں پچھلے نو سال کے دوران گوانتانامو بے میں حراست میں رکھا گیا۔نیویارک ٹائمز نے ان دستاویزات کے حوالے سے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ قیدیوں کو جیل میں رکھنے کے لئے ممکنہ ثبوت خامیوں سے بھر پور ہیں۔

2002ءکے بعد سے تقریباً چھ سو قیدیوں کو گوانتانامو سے دوسری جگہ منتقل کیا جا چکا ہے۔ مگر 172افراد اب بھی وہاں قید ہیں۔ وکی لیکس کی جانب سے افشا کی جانے والی دستاویزوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ان افراد کو کسی نگرانی کے بغیر چھوڑ دیا گیا تو وہ خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔واشنگٹن میں امریکن یونیورسٹی سے منسلک مشیل مک کلیورکہتی ہیں کہ کچھ قیدی ایسے ہیں جنہیں کسی قسم کی سز ا ملنا ضروری ہے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وکی لیکس پر شائع ہونے والی دستاویزات میں کچھ معلومات پرانی ہے اور گوانتانامو میں کام کرنے والے سیکیورٹی گارڈ اور تحقیق کار وں کے نام افشا ہونے کی صورت میں ان کی زندگیاں خطرے میں پڑسکتی ہیں۔

وہائٹ ہاؤس نے ان دستاویزات کی اشاعت پر تنقید کی ہےاور ایک صدارتی ترجمان نے کہا ہے کہ صدر اوباما اس قیدخانے کو بند کرنے کے وعدے پر قائم ہیں۔ مگر ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ممکن نہیں ہوگا اس لئے کہ انتظامیہ نے قیدیوں کے مقدمات فوجی عدالتوں کو واپس بھیج دئیے ہیں اور کانگریس نے قیدخانے کو بند کرنے کے لئے فنڈز مختص نہیں کئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مبینہ دہشت گردوں کے لئے گوانتانامو میں قید کی سہولت قائم رکھنا ایک قانونی چیلنج ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی نظام انصاف کے دائرے سے باہر گوانتانامو میں قیدیوں کو رکھنا مگر ایسی جگہ میں جہاں امریکہ کا کنٹرول ہو۔ اس منصوبے کے بارے میں سوالیہ نشان ہمیشہ سے ہی موجود تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وکی لیکس کی دستاویزات سے گوانتانامو بے کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کامرکز بنے گا جس سے اوباما انتظامیہ اپنے آپ کو بچانے کی خواہشمند تھی۔

XS
SM
MD
LG