رسائی کے لنکس

logo-print

بائیڈن کا مسلمانوں کو انتظامیہ میں شامل کرنے کا وعدہ اور ٹرمپ کی صدارتی مہم کا موقف


ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر وہ صدر بنے تو روزمرہ کے معاملات پر امریکی مسلمانوں کی تجاویز اور خدشات کو پیشِ نظر رکھیں گے اور مسلمان "آوازوں" کو اپنی انتظامیہ میں شامل کریں گے۔

دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ کہتے رہے ہیں کہ ڈیمو کریٹک امیدوار جو بائیڈن سیاسی مقاصد حاصل کے لئے ایسے بیانات دیتے ہیں، جو ووٹروں کو سیاسی تسلیاں اور دلاسے دینے کے لئے ہیں۔

جو بائیڈن ان دنوں اپنی صدارتی مہم آن لائن چلانے میں مصروف ہیں اور مسلمانوں کو اپنی حکومت میں نمائیندگی دینے کی بات انہوں نے امریکی مسلمانوں کی تنظیم 'ایمگیج ایکشن' کی آن لائن تقریب 'ملین مسلم ووٹس' سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی۔

جو بائیڈن نے کہا کہ صدر بننے کے بعد روزمرہ کے ان معاملات میں امریکی مسلمانوں کی تجاویز اور خدشات جاننے کی کوشش کروں گا، انھیں سنوں گا اور ان پر عمل کروں گا، جو ہماری کمیونیٹیز کے لیے اہم ہیں۔ ان میں مسلمان آوازوں کو اپنی انتظامیہ کا حصہ بنانا شامل ہوگا۔ اگر مجھے صدر بننے کا اعزاز حاصل ہوا تو میں پہلے ہی دن مسلمانوں پر پابندی ختم کردوں گا۔

جو بائیڈن نے کہا کہ ''میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اس سال نومبر کے انتخابات میں اہم کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی مسلمانوں کی آوازیں اہمیت رکھتی ہیں''۔

آئیندہ صدارتی انتخابات میں کئی اہم امریکی ریاستوں میں مسلمان ووٹرز کی تعداد اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ 2016 کے انتخاب میں صدر ٹرمپ کو مشی گن میں 11 ہزار سے کم ووٹوں سے کامیابی ملی تھی۔ اس ریاست میں مسلمان ووٹروں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ ہے۔

تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ٹرمپ انتظامیہ کو اس کی امیگریشن پالیسیوں اور سات مسلمان اکثریتی ملکوں کے امریکہ میں داخلے پر سال 2017ء میں عائد کی گئی پابندیوں کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بناتی ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکلنے کے امریکہ کے فیصلے پر بھی تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کی پالیسیاں امریکہ کو محفوظ بنانے کے لیے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کئی مرتبہ اپنے سیاسی حریف جو بائیڈن کو ذہنی استعداد کے لحاظ سے صدارت کے لئے نااہل قرار دیا ہے ۔ چند روز قبل فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ 'بائیڈن صدر بننے کے اہل نہیں ہیں۔ صدر بننے کے خواہش بند شخص کو تیز، سختی برداشت کرنے کے قابل اور بہت کچھ اور بھی ہونا چاہئے'۔

صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم نے یہ بیان بھی جاری کیا تھا کہ جو بائیڈن سیاسی تسلیاں دینے کا ناکام ریکارڈ رکھتے ہیں، جو امریکہ کی قومی سلامتی کے لئے تباہ کن ثابت ہو چکا ہے ۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی افواج کو مضبوط کرنے، دو انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو ختم کرنے، داعش کی خلافت کا خاتمہ کرنے، اور امریکہ کو نقصان پہنچانے کے خواہش مند غیر ملکی حریفوں پر سیاسی اور معاشی دباو بڑھانے کے لئے بھرپور اقدامات کئے ہیں۔

صدر ٹرمپ اور جو بائیڈن اپنے آپ کو بہترین صدارتی امیدوار ثابت کرنے کے لئے ستمبر میں پہلے صدارتی مباحثے میں ایک دوسرے کا سامنا کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG