رسائی کے لنکس

کیا سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ٹرمپ کو مواخذے سے بچا پائے گی؟


رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے اکثریتی رہنما سینیٹر مچ میکانیل جمعرات کے روز سنیٹ میں داخل ہو رہے ہیں
رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے اکثریتی رہنما سینیٹر مچ میکانیل جمعرات کے روز سنیٹ میں داخل ہو رہے ہیں

ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت کے حامل امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی منظوری تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ تاہم، ایوان کی سپیکر نینسی پلوسی نے ابھی یہ نہیں بتایا ہے کہ وہ اس معاملے کو کب سینیٹ میں منظوری کیلئے بھجوائیں گی۔

بدھ کے روز ایوان نمائندگان میں لگ بھگ ایک ہی پارٹی کے ووٹوں کی بنیاد پر ڈیموکریٹک پارٹی نے صدر ٹرمپ کے مواخذے سے متعلق دو شقوں کی منظوری دی جن میں صدر ٹرمپ کو خود اپنے سیاسی مفاد کی خاطر اختیارات کے ناجائز استعمال اور ان کے اقدامات کے خلاف کانگریس میں تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے۔

تاہم، ووٹنگ کے کچھ ہی دیر بعد سپیکر نینسی پلوسی نے رپورٹروں کو بتایا کہ وہ سینیٹ کے لیڈروں سے اس بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی خواہاں ہیں کہ وہ اس معاملے کی سماعت کیلئے کیا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ نینسی پلوسی کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے باوجود اس بات کے کہ امریکی سینیٹ میں اکثریتی رہنما کہتے ہیں کہ جیوری کے اہم ارکان کا ملزم کے وکلا کے ساتھ اشتراک عمل درست ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ بات ٹھیک نہیں لگتی۔ لیکن وہ دیکھیں گی کہ سینیٹ میں رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے اکثریتی رہنما مچ میکانیل کب اس بات کو سمجھتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے خود ایوان میں قدم اٹھا لیا ہے۔

سینیٹر مچ مکانل نے کہا ہے کہ وہ مجوزہ سماعت کیلئے براہ راست وائٹ ہاؤس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ مکانیل نے اس امکان کو بڑھا دیا ہے کہ یہ سماعت مختصر ہوگی، جس میں کوئی گواہ طلب نہیں کیے جائیں گے۔ وہ ڈیموکریٹک رہنما چک شومر کی طرف سے ٹرمپ انتظامیہ کے ان چار اہم اہلکاروں کا مؤقف سننے کی درخواست کو رد کر رہے ہیں، جنہوں نے ایوان نمائندگان میں سماعت کے دوران گواہی نہیں دی تھی۔

رپبلکن سینیٹر لنڈزے گراہم مچ مکانیل کی حکمت عملی کی حمایت کر رہے ہیں جو صدر ٹرمپ کے کلیدی حامی ہیں۔ سینیٹر لنڈزے گراہم کا کہنا ہے کہ وہ صدر کی طرف سے گواہوں کے طلب کیے جانے کے حامی نہیں ہیں اور وہ سینیٹر چک شومر کی طرف سے بھی گواہوں کو طلب کرنے کی حمایت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسی معاملے پر ووٹ دیں گے جو ایوان میں منظور کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں رپبلکن پارٹی کے بہت سے سینیٹر مناسب وقت پر قدم اٹھانے کیلئے تیار ہیں۔

مچ مکانیل نے کہا ہے کہ جنوری کے دوران سنیٹ میں ہونے والی یہ سماعت اولین ترجیح ہوگی۔

مواخذے کی دونوں شقوں میں سے ایک میں صدر ٹرمپ پر سابق نائب صدر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر پر کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے سلسلے میں یوکرین کی حمایت حاصل کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ جو بائیدن 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک کلیدی امیدوار ہیں۔ جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر یوکرین کی گیس کمپنی کیلئے کام کرتے ہیں۔

مواخذے کی دوسری شق میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایوان میں مواخذے سے متعلق یوکرین سے تعلق رکھنے والی ہزاروں دستاویزات تحقیقات کاروں کو فراہم کرنے سے روکنے کے علاوہ اپنی انتظامیہ کے کلیدی اہلکاروں کو تحقیقات کے دوران گواہی دینے سے بھی منع کیا اور یوں وہ کانگریس کے کام میں رکاوٹ پیدا کرنے کے مرتکب ہوئے تھے۔

اب دیکھنا یہی ہے کہ سینیٹ میں اکثریتی رہنما مچ میکانیل کی قیادت میں رپبلکن پارٹی صدر ٹرمپ کو مواخذے سے بچانے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG