رسائی کے لنکس

logo-print

خواتین کو حقوق کے لیے لمبا راستہ طے کرنا ہے: بن کی مون


سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دیہی علاقوں میں روا رکھی جانے والی عدم مساوات بالخصوص لڑکیوں اور عورتوں کے لیے، جو دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ ہیں، بہت تکلیف دہ ہے

  • دنیا بھر کے ممالک جمعرات 8 مارچ کو خواتین کاعالمی دن منارہے ہیں۔ یہ دن منانے کا مقصد کاروبار، سیاست ، تعلیم اور دیگرشعبوں میں خواتین کی کامیابیوں کااعتراف کرناہے۔ لیکن اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون کا کہناہے کہ خواتین کی اب تک حاصل ہونے والی کامیابیاں کافی نہیں ہیں ۔

جمعرات کو اپنے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کومردوں کے مساوری بنیادی حقوق اور آزادیاں حاصل کرنے کے لیے ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دیہی علاقوں میں روا رکھی جانے والی عدم مساوات بالخصوص لڑکیوں اور عورتوں کے لیے، جو دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ ہیں، بہت تکلیف دہ ہے۔

اقوام متحدہ کا کہناہے کہ چھوٹے کاشت کار یا بے زمین کارکنوں کے طورپر کام کرنے والی لگ بھگ50 کروڑ خواتین معاشی، سماجی اور سیاست سمیت تقریباً تمام شعبوں کے اشاریوں میں کم ترین درجوں پر نظر آتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے عہدے داروں کا کہناہے کہ اگر خواتین کو وسائل تک رسائی کے مساوی مواقع میسر ہوں تو عالمی زرعی پیداوار میں چار فی صد اضافہ ہوسکتا ہے۔

عہدے داروں کا یہ بھی کہناہے کہ دیہی علاقوں میں خواتین کو وسائل تک مسادی رسائی دینے سے بھوک کے خلاف عالمی جنگ میں نمایاں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نیوی پیلے نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ خواتین کی فلاح و حقوق کے لیے زیادہ اقدامات کریں۔

امریکہ میں خاتون اول مشیل اوباما اور وزیر خارجہ ہلری کلنٹن ایک تقریب میں دس ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ’انٹرنیشنل وومن آف دی کرج ایوارڈ‘ دے رہی ہیں۔ ان ممالک میں افغانستان، پاکستان ،برما، سوڈان، کولمبیا، لیبیا، سعودی عرب ، مالدیپ، ترکی اور برازیل شامل ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدے دار کا کہناہے کہ یہ ایوارڈ ان خواتین کو دیے جارہے ہیں جنہوں نے معیشت کی افزائش میں اہم کردار ادا کیا ہے اور جنہوں نے امن اور استحکام کے لیے قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔

XS
SM
MD
LG