رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب: 'خواتین کے ریسلنگ مقابلوں کا شدت سے انتظار تھا'


سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کے ریسلنگ مقابلے کا انعقاد کیا گیا ہے۔ جمعرات کو ہونے والے مقابلے میں خواتین ریسلرز روایتی ریسلنگ کاسٹیومز کے بجائے مکمل جسم ڈھانپنے والا لباس پہن کر شریک ہوئیں۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ فہد اسٹیڈیم میں ہونے والے ریسلنگ مقابلے میں ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ (ڈبلیو ڈبلیو ای) کی خواتین سپر اسٹار نتالیہ نیڈہارٹ اور لیسی ایوینز مدمقابل تھیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق دونوں خواتین ریسلرز نے روایتی ریسلنگ کاسٹیومز کے بجائے سیاہ لیگنگز اور ڈھیلی ٹی شرٹس پہنی ہوئی تھیں جن سے ان کا جسم مکمل طور پر ڈھکا ہوا نظر آرہا تھا۔

دونوں خواتین جب اپنے سنہرے بالوں کو لہراتی ریسلنگ رنگ میں داخل ہوئیں تو اسٹیڈیم میں بجنے والے میوزک، آتش بازی اور شائقین کے شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ دونوں خواتین ریسلرز کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہوا لیکن جیت نتالیہ نیڈہارٹ کے نام رہی۔

سعودی عرب میں خواتین کے پہلے ریسلنگ مقابلے سے متعلق ڈبلیو ڈبلیو ای نے کہا ہے کہ نتالیہ نیڈہارٹ، لیسی ایوینز اور ڈبلیو ڈبلیو ای کے لیے یہ ناقابلِ فراموش رات ہے۔

ریاض میں ہونے والا ریسلنگ مقابلہ دیکھنے کے لیے شائقین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

اس موقع پر ڈبلیو ڈبلیو ای کی ٹی شرٹ پہن کر مقابلہ دیکھنے آئے ایک پرستار نے خواتین ریسلرز کے ڈھکے ہوئے لباس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ انہیں جیل بھیجنا چاہتے ہیں؟ سعودی عرب میں ریسلنگ کے روایتی ملبوسات میں ریسلنگ ممکن نہیں۔

نتالیہ نیڈہارٹ اور لیسی ایوینز ​کے لباس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں خواتین ایسا ہی لباس پہن کر ریسلنگ کرسکتی ہیں۔

چوبیس سالہ احمد نے کہا کہ انہیں خواتین کے ریسلنگ مقابلوں کا شدت سے انتظار تھا۔ جو یہ مقابلے دیکھنا چاہتے ہیں، وہ دیکھنے آئیں۔ اور جو نہیں دیکھنا چاہتے، انہیں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔

علی نامی ایک سعودی شہری روایتی عرب لباس 'جبّے' میں ملبوس تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک میں آنے والی اس سماجی تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن اس کی کچھ حدود بھی ہونی چاہیئں۔ انہوں نے خواتین کے مقابلے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس کے خلاف نہیں لیکن ہمیں ایسی تقریبات کا عادی ہونے میں وقت لگے گا۔

ایک پرستار کا کہنا تھا کہ خواتین ایسا لباس پہن کر سعودی عرب میں ریسلنگ کرسکتی ہیں۔
ایک پرستار کا کہنا تھا کہ خواتین ایسا لباس پہن کر سعودی عرب میں ریسلنگ کرسکتی ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب ان غیر معمولی نوعیت کی تقریبات کے ذریعے اپنے 'قدامت پسندانہ' تشخص کو بدلنے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سعودی حکومت کا یہ اقدام بھی ملک میں انٹرٹینمنٹ پر عائد پابندیوں میں نرمی برتنے کی طرف ایک نیا قدم ہے۔

سعودی عرب میں یہ تبدیلیاں ولی عہد محمد بن سلمان کے معاشی اور سماجی ایجنڈے کے تحت کی جا رہی ہیں جسے مغربی ممالک کی جانب سے خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔

محمد بن سلمان نے اقتصادی اور سماجی اصلاحات کے وژن 2030 کا اعلان کر رکھا ہے جس کا مقصد سعودی عرب کا روشن خیال تشخص اجاگر کرنا ہے۔ سعودی عرب کی قومی آمدنی کا زیادہ انحصار تیل کی فروخت پر ہے۔ لیکن اب حکومت سیاحت کے ذریعے بھی زرمبادلہ کمانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب 2030 تک غیر ملکی سیاحوں کی سالانہ آمدورفت 10 کروڑ تک لے جانا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت نے گزشتہ چند سالوں میں خواتین کو نہ صرف مردوں کے کھیل دیکھنے کی اجازت دی ہے بلکہ خواتین کو خاندان کے مرد سربراہ کی اجازت کے بغیر بیرون ملک سفر کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔

سعودی عرب نے ملک بھر میں سینما پر گزشتہ 35 برسوں سے عائد پابندی ہٹاتے ہوئے فلموں کی نمائش کی اجازت بھی دے دی ہے جب کہ حکومت نامحرم مرد و خاتون کو ایک ساتھ ہوٹل کا کمرہ کرائے پر لینے کی اجازت دینے کا اعلان بھی کر چکی ہے۔

مقابلہ دیکھنے آئے 24 سالہ احمدنے کہا کہ وہ خواتین کے ریسلنگ مقابلوں کے انتظار میں تھے۔
مقابلہ دیکھنے آئے 24 سالہ احمدنے کہا کہ وہ خواتین کے ریسلنگ مقابلوں کے انتظار میں تھے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں غیر ملکی افراد زیادہ تر ملازمتوں کے سلسلے میں آتے ہیں جب کہ مسلمان اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے مکہ اور مدینہ کا رخ کرتے ہیں۔ جنہیں ملک کے دیگر حصوں میں سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

تاہم سعودی حکام نے رواں برس ستمبر میں پہلی مرتبہ سعودی عرب کو غیر ملکی سیاحوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG