رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی بینک نے پاک افغان تجارت کے فروغ کے لیے اور پاکستان کے صوبہٴ خیر پختونخواہ میں واقع درہ خیبر کے ساتھ ساتھ افغانستان کے سرحد تک ایک تجارتی راہدری کی تعمیر اور صوبہ سندھ میں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے معاونت فراہم کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

عالمی بینک ان دو منصوبوں کے لیے تقریباً 56 کروڑ ڈالر کی معاونت فراہم کرےگا۔ یہ رقم آسان شرائط کے تحت قرض کی فراہمی کا حصہ ہوگی۔

عالمی بینک کی طرف سے جمعے کو جاری ہونے والے یبان کے مطابق، بینک کے پاکستان میں نمائندے پیچا متھو ایلانگو نے کہا ہے کہ درہ خیبر کے ساتھ ساتھ پاک افغان سرحد تک 48 کلومیٹر طویل چار رویہ شاہراہ کی تعمیر سےپاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی سرگرمیوں اور علاقائی رابطوں کو فروغ ملے گا اور اس سے نہ صرف پاکستان کا بنیادی ڈھانچہ بہتر کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس شاہراہ کی تعمیر سے اس علاقے میں نجی تجارتی شعبے کو بھی ترقی ملے گی۔

عالمی بینک کے مطابق تقریباً 46 کرو ڑ ڈالر کی لاگت کے خیبر پاس اقتصادی رہداری منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان اور وسط ایشائی ریاستوں کی کاروباری برادری کے لیے فائدہ مند ہوگا اور اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد کی ٹرانسپورٹ کے لیے درکار وقت اور اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔

پاکستان افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ زبیر موتی والا نے خیبر پاس اقتصادی راہدری کے مجوزہ منصوبہ کو خوش آئند قرار دیا۔

جمعے کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "اگر ہم نے صیح معنوں میں افغانستان کو صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کے دھارے میں لانا ہے تو میرے خیال میں ایسے (منصوبے) بہت ضروری ہیں اور عالمی بنک کو قرضہ دے رہا ہے یا معاونت کر رہا ہے، ہمیں اس سے بھی بہت زیادہ چیزوں (ٖفنڈز) کی ضرورت ہے۔"

اُنہوں نے مزید کہا کہ "تاکہ ہم ایسے منصوبوں سے، اسی طرح ہم افغانستان کے ساتھ اپنے رابطے بڑھا کر ان کی مدد بھی کر پائیں اور تجارتی حجم میں اضافہ ہونے سے پاکستان کو فائدہ بھی ہوگا۔ میرے خیال میں یہ صحیح سمت میں ایک اقدام ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت اچھا اور احسن فیصلہ ہے۔"

زبیر موتی والا نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی روابط کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایسے منصوبوں پر عمل درآمد کرنا ضروری ہے۔
"یہ ایک بہت اچھا منصوبہ ہے، جب آپس میں رابطے بہتر ہوئے ہیں اور جب ذرائع نقل و حرکت بہتر ہوئے تو اس کی وجہ سے دیگر مسائل بھی حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔"

پاک افغان تجارت سے منسلک کاروباری برادری کے نمائندے یہ کہتے آ رہے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی اور سماجی رابطوں کو بہتر کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان آمدروفت کو سہل بنانے کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔

عالمی بینگ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس اقتصادی راہداری کے اس مجوزہ منصوبے تعمیر پاک افغان سرحد کے آر پار آمدورفت کو سہل بنانے سے پاکستان میں علاج کی غرض سے آنے والے افغان شہریوں اور طلبہ کے لیے بھی آسانی کا باعث بنے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG