رسائی کے لنکس

امن کا نوبیل انعام عالمی ادارہ برائے خوراک کے نام


فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کو رواں سال کا امن کا نوبیل انعام دیا گیا ہے۔

ڈبلیو ایف پی کو یہ انعام تنازعات کے شکار علاقوں میں خوراک کی کمی پوری کرنے اور امن کی کوششوں کے پیشِ نظر دیا گیا ہے۔

ناروے کی نوبیل کمیٹی کے چیئرپرسن بیرٹ ریس اینڈرسن نے جمعے کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ عالمی سطح پر اتحاد اور کثیرالجہتی تعاون کی اس وقت جتنی ضرورت ہے، شاید پہلے کبھی نہیں تھی۔

نوبیل انعام جیتنے والے ادارے 'ڈبلیو ایف پی' کو تقریباً 11 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم 10 دسمبر کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں دی جائے گی۔

ڈبلیو ایف پی کے مطابق عالمی ادارہ سالانہ 88 ملکوں کے لگ بھگ نو کروڑ 70 لاکھ افراد کی مدد کرتا ہے۔

یاد رہے کہ سالِ رواں کا ​ادب کا نوبیل انعام امریکہ کی شاعرہ لوئیس گلوک کے نام رہا ہے جب کہ فرانسیسی خاتون سائنس دان ایمانوئل چارپینٹیئر اور امریکی ماہر جینیفر اے ڈوڈنا کو 'جینوم ایڈیٹنگ' کا ایک طریقہ دریافت کرنے پر کیمسٹری کے نوبیل انعام کا فاتح قرار دیا گیا ہے۔

امریکی محققین ہاروی آلٹر، چارلس رائس اور برطانوی محقق مائیکل ہوٹن کو طب کا نوبیل انعام دیا گیا۔ نوبیل جیوری کے مطابق اُنہیں یہ اعزاز پیر کو ہیپاٹائٹس سی وائرس کی دریافت پر دیا گیا ہے۔

اسی طرح طبعیات کا نوبیل انعام مشترکہ طور پر برطانیہ، جرمنی اور امریکہ کے سائنس دانوں کو دیا گیا ہے جنہوں نے بلیک ہول سے متعلق تحقیق کے دوران اہم انکشافات کیے تھے۔

ان سائنس دانوں میں برطانیہ کے روجر پینروز، جرمنی کے رین ہارڈ گینزل اور امریکہ سے تعلق رکھنے والی خاتون سائنس دان اینڈریا گیز شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG