رسائی کے لنکس

logo-print

چینی صدر کی بھارت آمد، ہفتے کو مذاکرات ہوں گے


چین کے صدر شی جن پنگ بھارت کے مختصر دورے پر جمعہ کو چنائی پہنچے۔ وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت پر یہ دورہ کررہے ہیں۔

آمد کے فوری بعد دونوں رہنماؤں نےجنوبی بھارت کے ساحلی قصبے ’ممالم پورم‘ کے آثار قدیمہ کے یادگار مقامات کا دورہ کیا۔

صدر شی چوبیس گھنٹے کے دورے پر آئے ہیں، جس کے دوران باضابطہ مذاکرات ہوں گے اور متعدد یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔

بھارت آنے سے دو روز قبل صدر شی کہہ چکے ہیں کہ چین کشمیر کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ چین نے بھارت کے روایتی حریف پاکستان کی ٹھوس سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔

بھارت نے اگست میں اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔ پاکستان ​بھارتی اقدام کی مخالفت اور اس پر کڑی تنقید کرتا ہے۔

اس پر سخت رد عمل دیتے ہوئے بھارتی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ’’دوسرے ملکوں کا یہ کام نہیں کہ وہ بھارت کے داخلی امور میں دخل اندازی کریں۔‘‘

حکام نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ صدر شی اور وزیراعظم مودی کی ملاقات میں کشمیر کا گنجلک معاملہ زیر غور آئے گا یا نہیں۔

اگر کشمیر کا معاملہ زیر بحث آیا تو بھارتی حکام کے مطابق مودی صدر شی پر زور دیں گے کہ وہ بھارت کے موقف پر غور کریں کہ اس نے کشمیر کی خودمختاری کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔

صدر شی کی بھارت آمد سے چند گھنٹے قبل بھارتی پولیس نے درجنوں تبتی کارکنوں کو حراست میں لے لیا جو چینی سربراہ کی آمد پر احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ ان میں تبتی یوتھ کانگریس کے سربراہ گونپو دھوندپ شامل ہیں جو چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ’’ہم آزادی چاہتے ہیں۔‘‘

تبت کے روحانی پیشوا اور جلاوطن تبتی حکومت کے رہنما دلائی لاما بھارت میں مقیم ہیں۔ جب کبھی چینی مہمان دورے پر آتے ہیں تو تبت کے سرگرم کارکن احتجاج کرتے ہیں۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کی بلند اور تقریباً 3500 کلومیٹر طویل سرحد کی سیکورٹی بڑھانے کے معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم بات چیت متوقع ہے۔

XS
SM
MD
LG