رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کی غلامی سے آزاد ہونے والی یزیدی لڑکیوں کا میوزک گروپ


یزیدی لڑکیوں کا گروپ لندن میں اپنی قدیم موسیقی کو محفوظ بنانے کا کام کر رہا ہے۔

ریناس الیاس کی عمر اس وقت 14 سال تھی جب داعش کے عسکریت پسندوں نے شمالی عراق میں ان کے گاؤں پر قبضہ کر کے اسے ملیا میٹ کر دیا۔ عسکریت پسندوں نے ریناس کو قیدی بنانے کے بعد ایک عسکریت پسند کے پاس فروخت کر دیا۔ وہ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، جب اس کا دل بھر گیا تو اس نے ریناس کو ایک دوسرے جنگجو کے پاس بیچ دیا جو اس سے بھی زیادہ ظالم تھا۔

ریناس کو دو سال کے بعد جنسی غلامی سے نجات ملی اور اب وہ اس گروپ کے ساتھ برطانیہ میں ہے جو فنا ہوتی ہوئی یزیدی موسیقی کو محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس گروپ میں 15 سے 22 سال کی یزیدی لڑکیاں شامل ہیں۔

داعش کے دور میں یزیدیوں کی ثقافت کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا، جس کا سامنا یزیدیوں کو کرنا پڑا اور انتہاپسندوں نے ان کی موسیقی کو بھی اسی طرح مٹا دیا جس طرح یزیدیوں کو تہہ تیغ کیا گیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ یزیدیوں کی موسیقی کی تاریخ پانچ سے سات ہزار سال پرانی تھی۔ لیکن اسے کبھی موسیقی کے انداز میں لکھا گیا اور نہ ہی ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کی بجائے یہ قدیم موسیقی نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔

یزیدی لڑکیوں کا گروپ لندن میں اپنی قدیم موسیقی کی ریکارڈنگ کے دوران۔
یزیدی لڑکیوں کا گروپ لندن میں اپنی قدیم موسیقی کی ریکارڈنگ کے دوران۔

اب یہ منفرد نوعیت کی آوازیں شمالی عراق میں، جو یزیدیوں کا آبائی وطن ہیں، ایک بار پھر گونجنا شروع ہو گئی ہیں۔ عامر فاؤنڈیشن نامی پراجیکٹ کے تحت یزیدی موسیقی کو محفوظ کرنے کا کام جا رہی ہے۔ اس پراجیکٹ کو برطانوی حکومت کی مدد حاصل ہے اور اس کی قیادت ایک معروف وائلن نواز مائیکل بکمن کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یزیدیوں کی موسیقی کا ان کے کلچر سے گہرا تعلق ہے، جس میں آبادی کے صرف ایک طبقے کو، جو قوال کے زمرے میں آتا ہے، موسیقی پیش کرنے کا موقع ملتا ہے۔

اب اس طرح کے صرف 16 افراد باقی بچے ہیں۔ اس لیے ہم نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ ان کی نسل کشی کا ایک اور سلسلہ شروع ہو، یا کوئی اور دل دہلا دینے والا واقعہ جنم لے، اس موسیقی کو ریکارڈ کر کے محفوظ کر لیں۔

اس پراجیکٹ کے تحت شمالی عراق میں 100 سے زیادہ نغمے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں اور بہت سے یزیدیوں کو ان کی ثقافت کے حوالے سے تکنیک اور ساز بجانے کی تربیت دی جا رہی ہے۔

2014 میں ایک اندازے کے مطابق، داعش نے 10 ہزار یزیدیوں کو یا تو ہلاک یا اغوا کر کے غلام بنا لیا تھا۔ ان کی خواتین اور لڑکیوں کو جنسی غلامی پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ یزیدی موسیقی کو محٖفوظ بنانے کے لیے جن یزیدی خواتین اور مردوں کو لندن بلایا گیا تھا، ان میں سے اکثر افراد داعش کی قید میں ان کے ظلم و ستم سہہ چکے ہیں۔

ریناس کہتی ہیں کہ میں یہ چاہتی ہوں کہ ہماری ثقافت کو محٖفوظ بنانے کی کوششیں جاری رہیں۔ اگر اس پروجیکٹ کے ذریعے ہماری مدد جاری رکھی گئی تو ہم بھی اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

داعش نے موسیقاروں کو نشانہ بنایا اور ان کے موسیقی کے آلات تباہ کر دیے، تاکہ یزیدیوں کی ثقافت کا صفایا کیا جا سکے۔ اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ریکارڈنگ کے بعد ان کی موسیقی مستقل بنیادوں پر محفوظ ہو جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG