رسائی کے لنکس

logo-print

سال 2016 کے دوران سائبر سکیورٹی کے شعبے میں پیش رفت متوقع


سال 2015کے دوران، یہ خدشات اور چیلنج متعدد اطراف سے نمودار اور وارد ہوئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ہیکروں نے، جنھیں چین کی فوج کی اعانت حاصل تھی، لاکھوں موجودہ اور سابقہ امریکی وفاقی کارکنان کی ذاتی معلومات کو ہیک کیا

اِس میں کوئی شک نہیں کہ سائبر سکیورٹی کے پیشہ ور ماہرین سال 2015 کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ بات یہ ہے کہ یہی سال تھا جب انٹرنیٹ ہیکنگ کے لاکھوں کامیاب حملے ہوئے، جن میں بیشمار دستاویزات افشاع یا چوری ہوئے۔ کچھ واقعات میں یوں لگا جیسے دنیا بھر کے کمپیوٹر نظاموں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے شاید کوئی خاطرخواہ انتظام ہو ہی نہیں سکتا۔

یہ خدشات اور چیلنج متعدد اطراف سے نمودار اور وارد ہوئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ہیکروں نے، جنھیں چین کی فوج کی اعانت حاصل تھی، لاکھوں موجودہ اور سابقہ امریکی وفاقی کارکنان کی ذاتی معلومات کو ہیک کیا۔

مزید افسوس ناک معاملہ یہ ہے کہ ’ایشلے میڈیسن‘ کے لاکھوں رجسٹرڈ صارفین کا کھلے عام راز فاش ہوا۔ یہ ویب سائٹ من موجی بالغان سے متعلق ہے۔

واشنگٹن کے مخالفین، مثلاً روس اور ایران نے کمپیوٹر کے کلیدی امریکی زیرین ڈھانچے پر مشتمل نظاموں تک رسائی میں کامیابی کی کوششیں جاری رکھیں، جب کہ لاکھوں نئے آلات، جن میں کاروں سے لے کر گڑیا تک کا ہر کاروبار شامل ہے، آن لائن ہوا اور ہیکنگ کا نشانہ بنا۔

سال 2015کے دوران تاوان کے عوض حملوں کے معاملات میں تیزی دیکھی گئی، جس پر ایف بی آئی کھلے عام سائبر انتباہ جاری کرنے پر مجبور ہوا۔

اِس لیے، سال 2016کے دوران کیا یہی کچھ دوہرایا جائے گا؟ ایک طرف، اس بات کی توقع کرنا مناسب نہیں ہوگا کہ نئے سال کے دوران ہیکرز اپنی کوششیں دوگنا نہیں کر دیں گے، جس میں نظاموں کو کریش کرنا اور محفوظ ڈیٹا پر دھاوا بولنا شامل ہو سکتا ہے۔

باوجود اِس کے، متعدد سائبر تجزیہ کاروں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا ہے کہ گذشتہ برس سامنے آنے والے سائبر نیوز کے معاملات کے بعد اب نیا سال سائبر کو زیادہ محفوظ بنانے کے سلسلے میں مؤثر اقدامات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

سکیورٹی=آگہی

جِم امبروسنی، ’کوہن روزنِک‘ کے منتظم اعلیٰ ہیں، جو قومی سطح کی مشاورت کا ایک ادارہ ہے۔ بقول اُن کے، ’امریکہ کے لیے، سائبر حملوں کے لحاظ سے، شاید یہ بدترین سال تھا، جب ریکارڈ 17 کروڑ 50 لاکھ دستاویزات چوری ہوئیں، اور یہ تو وہ اعداد ہیں جو ہمارے علم میں آئے‘۔

اِس ضمن میں، اُنھوں نے کہا کہ کمزور ترین لِنک صارفین کی آگہی کا معاملہ ہے۔

سائبر میں دو دہائیوں کا تجربہ رکھنے والے، امبروسنی نے ہیکنگ کے بہت سارے واقعات دیکھے ہیں۔ بقول اُن کے، ’شاید مستقل خدشہ، ظاہر طور پر ایک پرانہ حربہ ہے، اور وہ ہے فِشنگ حملوں کا‘۔

امبروسنی کے الفاظ میں، ’صرف گذشتہ سال مالویئر کے 30 کروڑ نئے طریقے آزمائے گئے‘۔

بقول اُن کے، ’یہ ہیکروں کا آزمودہ حربہ بنتا جا رہا ہے، کیونکہ انسانی لاعلمی کا کوئی بدل نہیں۔ لوگ ایسی چیزوں پر بھی کلک کرتے اور اِن حربوں کی زد میں آتے ہیں جو اُنھیں نہیں کرنی چاہئیں۔ اس لیے، یہ بات کلیدی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ بات یقینی بنائی جائے کہ صارفین خبردار رہیں اور اُن کو تربیت حاصل ہو کہ اِن خطرناک حملوں کا ادراک رکھیں اور جانیں کہ ایسے میں کیا کچھ کیا جاسکتا ہے‘۔

بائرس بولند ’فری آئی‘ نامی سائبر سکیورٹی فرم کے ٹیکنالوجی کے سربراہ ہیں۔ وہ اِن خیالات سے اتفاق کرتے ہیں۔ بقول اُن کے، ’اِن اداروں کے بورڈ کے ڈائریکٹرز کے ارکان اب اس طرف دھیان دے رہے ہیں‘۔

اُن کے الفاظ میں، ’بورڈ کی سطح پر دیکھا جا رہا ہے آیا ’سسکو‘ (چیف انفارمیشن سکیورٹی آفیسرز) کس طرح کام کرتے ہیں؛ اور کوئی چارہ نہیں، اُنھیں اس ضمن میں پیش رفت دکھانی پڑے گی‘۔

XS
SM
MD
LG