رسائی کے لنکس

logo-print

یمن: فوجی سربراہ کی برطرفی کے بعد اہم ہوائی اڈہ بند


یمن کے صدر نےجمعے کو حکومت میں رد و بدل کرتے ہوئے فضائیہ کے سربراہ، چار گورنروں اور ایک درجن سے زائد فوجی حکام کو اپنے عہدوں سے برطرف کر دیا تھا

یمن کے فوجی سربراہ سے وفادار اہل کاروں نے، جنھیں صدر عبد ربو منصور ہادی نے عہدے سے برطرف کیا تھا، ہفتے کو حکام کواِس بات پر مجبور کردیا کہ وہ اہم ہوائی اڈے کو بند کردیں ، جب کہ اِس سے قبل اُنہی نے طیارے مار گرانے کی دھمکی دی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ صدر کی طرف سے سابق صدر علی عبد اللہ صالح کے چچا زاد اور فضائی افواج کے سربراہ محمد صالح الاحمر کو برطرف کیے جانے کے بعد ، فضائی افواج کےاہل کاروں اور دیگر مسلح افراد نے صنعا ایئرپورٹ کا گھیراؤ کر کے پروازوں کو بند کرادیا۔ احمر نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا تھا۔

صدر نےجمعے کو حکومت میں اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے فضائیہ کے سربراہ، چار گورنروں اور ایک درجن سے زائد فوجی حکام کو اپنے عہدوں سے برطرف کر دیا تھا، جس کا مقصد مسٹر صالح کے وفادار اہل کاروں کو کلیدی حکومتی عہدوں سے ہٹانا تھا۔

حکومت یمن اِس بات کی کوشاں ہے کہ مسٹر صالح کے استعفے کےبعد چھڑنے والی حکومت مخالف احتجاجی لہر پر قابو پایا جائے۔

تاہم، اس ردو بدل کا سابق صدر کے بیٹے، (علی عبداللہ صالح) پر کوئی اثر نہیں پڑا ، جو اب بھی ریپبلیکن گارڈ کی سربراہ ہیں، یا پھر اُن کے بھتیجے محمد عبد اللہ صالح جو اب بھی سینٹرل سکیورٹی فورسز کے سربراہ کا عہدے سنبھالے ہوئے ہیں۔

مسٹر ہادی، مسٹر صالح کے نائب رہ چکے ہیں۔ اُنھوں نے فروری میں صدر کا عہدہ سنبھالا، مسٹر ہادی القاعدہ سے لڑنے اور ملک کو مستحکم کرنے کا عہد کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG