رسائی کے لنکس

logo-print

یمن: القاعدہ کا قاتلانہ حملہ، وزیر دفاع محفوظ


اہل کاروں نے بتایا ہے کہ مشتبہ شدت پسندوں نے محمد نصر احمد کے موٹر گاڑیوں کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا، ایسے میں جب وزیر دفاع شبواہ صوبے کے سفر پر تھے

سکیورٹی اور فوجی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جمعے کو القاعدہ نے یمن کے وزیر دفاع پر ایک قاتلانہ حملے کی کوشش کی، جس میں وہ محفوظ رہے۔

اہل کاروں نے بتایا ہے کہ مشتبہ شدت پسندوں نے محمد نصر احمد کے موٹر گاڑیوں کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا، ایسے میں جب وزیر دفاع شبواہ صوبے کے سفر پر تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ وزیر اور اُن کے ہمراہ جانے والے سلامتی کے اعلیٰ اہل کار حملے میں بچ گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اُس وقت یہ قافلہ یمن کے کشیدگی کے شکار جنوبی علاقے میں القاعدہ کے خلاف جاری فوجی کارروائی کا مشاہدہ کرنے کے بعد واپس آرہا تھا۔

امریکہ یمن میں قائم القاعدہ، یا جزیرہ نما عربستان کی القاعدہ (اے کیو اے پی) کو اِس دہشت گرد نیٹ ورک کی خطرناک ترین شاخ سمجھتا ہے۔

وزیر دفاع پر یہ پہلا قاتلانہ حملہ نہیں تھا، جس میں وہ بچ گئے ہیں۔ اُن پر کئی بار قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل موصول ہونے والی رپورٹوں میں بتایا گیا تھا کہ، یمن کے سلامتی اور فوجی امور سے متعلق اہل کاروں کا کہنا ہے کہ القاعدہ کےشدت پسندوں نے وزیر دفاع کی موٹر گاڑیوں کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا ہے، ایسے میں جب وہ اسٹریٹجک علاقوں کے دورے سے واپس آرہے تھے، جہاں فوج نے القاعدہ کے وسیع رقبے میں پھیلے ہوئے ٹھکانوں پر پہ در پہ حملوں کے بعد اُن پر قبضہ حاصل کر لیا۔

بری فوج اور سکیورٹی اہل کاروں نے جمعے کے دِن محفد کے جنوبی علاقے کی طرف جانے والی ایک مرکزی سڑک کے پس منظر میں ایک پہاڑی کی چوٹی پر شدت پسندوں کے ساتھ شدید لڑائی کی۔

اہل کاروں نے بتایا ہے کہ حملہ آور مرنے والے اپنے تین ساتھیوں اور دو زخمیوں کو پیچھے چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے، جنھیں حکومتی افواج نے قبضے میں لے لیا ہے، جب کہ فوج کے تین اہل کار زخمی ہوئے۔

اِن حملوں کے دوران، یمنی افواج کو امریکی ڈرون طیاروں کی مدد حاصل تھی، جو محفد کے دور افتادہ پہاڑی سلسلے میں پوشیدہ القاعدہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے رہے۔

عہدے داروں نے، مروجہ ضابطوں کی رو سے، نام نہ بتانے کی شرط پر بات کی۔
XS
SM
MD
LG