رسائی کے لنکس

یمن: القاعدہ کے خلاف امریکی حملوں کا خیرمقدم


یمن: القاعدہ کے خلاف امریکی حملوں کا خیرمقدم

یمنی عہدے داروں نے کہاہے کہ سرکاری فورسز نے ملک کے جنوبی حصے میں اسلامی انتہاپسندوں سے علاقے کا کنٹرول واپس لینے کے لیے جاری لڑائی میں12 افراد کو ہلاک کردیا ہے جن پر القاعدہ سے تعلق کا شبہ تھا۔

یمن نے ان خبروں کا خیرمقدم کیا ہے کہ امریکہ جزیرہ نما عرب اور یمن کے ان علاقوں میں جہاں القاعدہ اور اسلامی عسکریت پسندوں کا اثر ورسوخ بڑھ رہاہے، فوجی حملے کرے گا۔

نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، بتایا ہے کہ امریکہ نے ان خدشات کے پیش نظر کہ یمن کی قیادت کو درپیش بحران سے عسکریت پسندوں کوپھر سے سراٹھانے کا موقع مل سکتا ہے، حالیہ ہفتوں میں اپنے فضائی حملے پھر سے شروع کردیے ہیں۔

یمنی صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ناصر اربائی کا کہناہے کہ صدر علی عبداللہ صالح ان دنوں سعودی عرب میں ہیں جہاں گذشتہ جمعے ایک دہشت گرد حملے میں ان کو لگنے والے زخموں کا علاج کیا جارہاہے۔

اربائی کا یہ بھی کہناہے کہ یہ عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کا مناسب وقت ہے ، چاہیے یہ کام یمنی حکومت کرے یا امریکہ۔

یمن کے وزیر دفاع نے جمعرات کے روز کہا کہ اس کی فورسز نے ملک کے جنوبی حصے میں 12 عسکریت پسندوں کوہلاک کردیا ہے۔

دارالحکومت صنعاء کی فضا ، حکومت اور الاحمد کی فورسز کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے پرامن ہے۔ تاہم حکمرانوں پر ایک عبوری حکومت کے قیام کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔

امریکہ کی جانب سے یمن میں القاعدہ اور اسلامی انتہاپسندوں کے خلاف فضائی حملوں کی کامیابی کے بارے میں فی الحال کچھ واضح نہیں ہے۔ گذشتہ ماہ ایک امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے یمنی نژاد امریکی لیڈر انورالعولقی کو نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم وہ محفوظ رہے تھے۔

نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھاہے کہ گذشتہ جمعے امریکی فضائی حملے میں جنوبی یمن میں درمیانی سطح کا القاعدہ راہنما مارا گیاتھا۔

XS
SM
MD
LG