رسائی کے لنکس

یمن میں امن کے لیے مذاکرات میں پیش رفت نا ہو سکی


حوثیوں کے وفد کے سربراہ حمزہ الحوثی کا کہنا تھا کہ " ہم یہ نہیں کہیں گے کہ جنیوا کانفرنس ناکام ہو گئی ہے بلکہ یہ ایک پہلا قدم تھا۔"

یمن کی جلا وطن حکومت اور باغیوں کے درمیان اقوام متحدہ کی کوششوں کی ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے اور بات چیت میں عارضی جنگ بندی پر بھی کوئی اتفاق نہیں ہو سکا۔

جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے بعد اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے یمن اسماعیل اولد شیخ احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ فریقین جنگ بندی اور باغیوں کے زیر تسلط علاقوں سے انخلا پر بات چیت کے لیے کسی حد تک آمادہ ہیں اور "امید ہے کہ مزید مشاورت سے آنے والے دنوں میں یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔"

انھوں نے کہا کہ وہ اتوار کو نیویارک جائیں گے جہاں وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

جلاوطن صدر منصور ہادی کے وزیرخارجہ ریاض یاسین عبداللہ نے کہا کہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور گوکہ آئندہ کے لیے کوئی تاریخ بھی طے نہیں ہوئی لیکن ان کے بقول اب بھی مزید بات چیت کی گنجائش موجود ہے۔

حوثیوں کے وفد کے سربراہ حمزہ الحوثی کا کہنا تھا کہ " ہم یہ نہیں کہیں گے کہ جنیوا کانفرنس ناکام ہو گئی ہے بلکہ یہ ایک پہلا قدم تھا۔"

گزشتہ سال ستمبر میں حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد سے ملک میں خانہ جنگی کی سی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

صدر منصور ہادی سعودی عرب میں مقیم ہیں جب کہ سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر رواں سال مارچ سے یمن میں حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس لڑائی میں اب تک 1000 شہری ہلاک جب کہ دس لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG