رسائی کے لنکس

یمن میں امدادی کارروائیوں کے لیے 2.4 ارب ڈالر اکٹھا ہونے کی امید


عدن کا ایک اسپتال (فائل)

اقوامِ متحدہ اور سعودی عرب، جنگ سے تباہ حال یمن کیلئے دو اعشاریہ چار ارب ڈالر اکٹھا کرنے کیلئے ایک مشترکہ کانفرنس کی میزبانی کر رہے ہیں، کیونکہ دنیا کی سب سے بڑی امدادی کارروائی کو رقم کی کمی کا سامنا ہے۔

سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد اور ایران کی طرف جھکاؤ رکھنے والے حوثی گروپ کی لڑائی سے، یمن کی تقریباً اسی فیصد آبادی کی بقا کا سارا انحصار امداد پر ہے۔ یمن میں کم خوراکی کی شکار آبادی کو اب کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سامنا ہے۔

یمن کیلئے اقوام متحدہ کی انسانی فلاح کی رابطہ کار لیزے گرانڈے نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو کانفرنس سے چند روز پہلے بتایا تھا کہ ایک اعشاریہ چھہ ارب ڈالر سے کم رقم ملنے کی صورت میں امدادی کارروائیوں کو تباہ کن کٹوتیوں کا سامنا ہو گا۔

گرانڈے کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو پھر امدادی کارروائیاں کرنے والوں کیلئے وہاں موجود آبادی کو زندہ رہنے کیلئے درکار خوراک، صاف پانی، صحت کی سہولیات، صفائی ستھرائی اور کم خوراکی کے شکار بیس لاکھ بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

امدادی کارروائیوں کے سربراہ مارک لوکاک کا گزشتہ جمعرات کے روز کہنا تھا کہ گزشتہ برس، اقوام متحدہ کے انسانی فلاح کے ادارے کو تین اعشاریہ دو ارب ڈالر موصول ہوئے تھے۔ تاہم، سن دوہزار بیس میں اب تک صرف چار سو چوہتر ملین ڈالر ہی مل سکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب امدادی ایجنسیاں رقم ختم ہونے سے چند ہفتے ہی دور ہیں۔

لوکاک سے جب سعودی عرب کی میزبانی کے بارے میں پوچھا گیا تو، ان کا جواب تھا کہ امدادی کارروائیوں کے لیے سب سے زیادہ رقم دینے والا سعودی عرب ہے اور اقوام متحدہ مسلسل متحارب گروپوں سے اپیل کر رہا ہے کہ وہ ایسی کارروائیوں سے باز آئیں جو انہیں نہیں کرنی چاہئیں۔

سعودی عرب نے پہلے ہی پانچ سو پچیس ملیں ڈالر رقم فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ گزشتہ ماہ امریکہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی امداد میں وسعت پیدا کرتے ہوئے خوراک کی مد میں دو سو پچیس ملین ڈالر دیگا۔

یمن میں صحت سے متعلق سہولتیں تباہ ہو کر رہ گئیں ہیں، ایسے میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایک سو اسی ملین ڈالر درکار ہونگے۔

کانفرنس کے منتظمین نے کہا ہے کہ یمن کرونا وائرس کے حوالے سے خدشات کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ہر طرف سے ملنے والے اشارے یہ بتاتے ہیں کہ ملک بھر میں کرونا وائرس بہت تیزی سے پھیلے گا اور صحت سے متعلق جو تھوڑی بہت سہولتیں موجود ہیں وہ بری طرح کم پڑ جائیں گی۔

XS
SM
MD
LG