رسائی کے لنکس

یمن میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ، 20 مظاہرین ہلاک


یمن میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ، 20 مظاہرین ہلاک

یمن میں ہونےوالے ایک حکومت مخالف مظاہرے کے شرکاء پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 20 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کا یہ واقعہ پیر کے روز اس وقت پیش آیا جب صدر علی عبداللہ صالح کی حامی سکیورٹی فورسز نے شہر تعز میں حکومت مخالف مظاہرین کی جانب سے قائم کردہ ایک احتجاجی کیمپ پر دھاوا بول دیا۔

اس سے قبل اتوار کے روز بھی حکومت مخالف ایک ریلی کے شرکاء پر سرکاری فورسز اور سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں کی فائرنگ سے کئی افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

دریں اثناء یمن کے ایک سرکاری عہدیدار نے کہا ہے کہ ملک کے تیسرے بڑے شہر زنجبار میں کیے گئے ایک حملے میں 4 فوجی اہلکار ہلاک اور 7 دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ حملے کی نوعیت اور حملہ آوروں کے متعلق تاحال کچھ نہیں بتایا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے سینکڑوں مسلح شدت پسند صوبہ ابیان کے مرکزی شہر زنجبار کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ صدر صالح کے مخالف فوجی جنرلز ان پر ابیان کو "دہشت گردوں " کے حوالے کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

زنجبار کے رہائشیوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اتوار کے روز شہر کا کنٹرول سنبھالنے والے 400 کے قریب مسلح شدت پسندوں اور سرکاری افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔

عینی شاہدین کے مطابق شدت پسندوں نے کئی بینک اور دیگر سرکاری دفاتر کی عمارات پر قبضہ کر رکھا ہے۔

امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' نے مقامی افراد کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ شہر پر قبضہ کرنے والے مسلح افراد کا تعلق مقامی قبائل سے ہے جنہیں مرکزی حکومت کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیا جارہا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق گوکہ شدت پسند القاعدہ کی مقامی شاخ سے تعلق نہیں رکھتے تاہم ان کا مقصد بھی جنوبی یمن میں ایک اسلامی ریاست قائم کرنا ہے۔

حزبِ مخالف کی جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ صدر صالح نے جان بوجھ کر زنجبار کا کنٹرول مسلح شدت پسندوں کے حوالے کیا ہے تاکہ عوام کو خوفزدہ کرکے اپنے لیے اقتدار میں رہنے کا جواز پیدا کیا جاسکے۔

صدر صالح اس سے قبل کئی بار خبردار کرچکے ہیں کہ اگر وہ اقتدار میں نہ رہے تو القاعدہ خلیجی ریاست پر قابض ہوجائے گی۔

XS
SM
MD
LG