رسائی کے لنکس

یمن میں بدامنی کے انسداد دہشتگردی کی کوششوں پر اثرات


یمن میں بدامنی کے انسداد دہشتگردی کی کوششوں پر اثرات

ہفتے کے روز یمن کے صدر علی عبداللہ صالح علاج کے لیے سعودی عرب پرواز کر گئے۔ وہ ایک روز قبل صدارتی محل پر حملے میں زخمی ہو گئے تھے ۔ ان کی روانگی پر یمن کے لوگوں نے، جو ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، خوشیاں منائیں۔ ابھی یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ان کی روانگی مستقل ہے یا عارضی، لیکن اس سے یمن میں قائم جزیرہ نمائے عرب میں القاعدہ نامی تنظیم کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کوششیں کھٹائی میں پڑ گئی ہیں۔

یمن میں امریکہ کی سابق سفیر باربرا بوڈن کہتی ہیں کہ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ صدر علی عبداللہ صالح کی ریاض کو روانگی علاج کے لیے ہی ہے اور وہ یمن سے مذاکرات کے نتیجے میں روانہ نہیں ہوئے ہیں۔ ’’

میرے خیال میں اگر اشد ضروری نہ ہوتا تو وہ سعودی عرب نہ جاتے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک دفعہ ملک چھوڑنے کے بعد واپسی کتنی مشکل ہوتی ہے ۔ اقتدار آپ کے ہاتھوں میں ہو تو اس پر قبضہ قائم رکھنا کہیں زیادہ آسان ہوتا ہے ۔ لیکن میرے خیال میں وہ اقتدار سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں۔‘‘

لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی روانگی سے، وہ عارضی ہو یا مستقل، امریکہ کی قیادت میں ہونے والی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو دھچکہ لگا ہے ۔ یمن، اسامہ بن لادن کی القاعدہ کی تنظیم کی سب سے مضبوط شاخ، جزیرہ نمائے عرب میں القاعدہ ، کا گھر ہے ۔ برطانیہ کے تحقیقی ادارے کیتھم ہاؤس کی کیٹ نیونز کہتی ہیں کہ مسٹر صالح نے دہشت گردی کے اندیشوں کو بڑی مہارت سے اپنے لیے امداد اور حمایت میں تبدیل کر لیا تھا۔

’’امریکی انتظامیہ نے صالح گھرانے کو، ان کے بیٹے احمد اور بھتیجے یحییٰ کو یمن میں انسدادِ دہشت گردی کے یونٹ چلانے کے لیئے خوب پیسہ دیا ہے ۔اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ صالح گھرانے کے پاس طاقت نہیں رہے گی، امریکہ انسداد دہشت گردی میں اپنے اتحادی کھو بیٹھے گا، اور اسے نئے سرے سے یمن میں کوئی انتظام کرنا ہوگا۔ ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ یمن میں القاعدہ اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھا سکے گی یا نہیں۔‘‘

مسٹر صالح کے دور ِ حکومت میں، امریکہ نے یمن میں القاعدہ کے مشتبہ ٹھکانوں پر بغیر پائلٹ والے ڈرون جہازوں سے حملے تیز کر دیے تھے۔ لیکن باربرا بوڈن کہتی ہیں کہ جب تک نشانے لگانے میں یمن کے حکام سے مدد نہ ملے، ڈرون حملے نہیں کیا جا سکتے۔’’بظاہر ڈرونز کے حملے بہترین یکطرفہ اقدام معلوم ہوتے ہیں، لیکن ان کے لیئے انسانوں کی طرف سے بالکل صحیح اور تازہ انٹیلی جنس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور یہ انٹیلی جنس ہمارے اپنے لوگوں کے علاوہ، یمنیوں سے بھی ملنی ضروری ہے تا کہ دشمن کو نشانہ بنایا جا سکے۔ لہٰذا صورت حال کا مستحکم ہونا ضروری ہے تا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف اپنا کام پھر شروع کر سکیں۔‘‘

دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اس لیے بھی پیچیدہ ہو گئی ہیں کیوں کہ یمن میں جو تصادم جاری ہے اس کے کئی پہلو ہیں۔ یہ صرف حکومت اور سڑکوں پر مظاہرین کے درمیان کشمکش نہیں ہے بلکہ یہ با اثر سیاسی طبقوں اور قبائلی سرداروں کے درمیان اقتدار کی لڑائی ہے۔ کیٹ نیونز کہتی ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یمن میں ایسا نہیں ہوگا کہ اقتدار ایک دفعہ میں ایک فریق سے دوسرے کو منتقل ہو جائے۔ با اثر دھڑوں میں کچھ عرصے تک اقتدار کی جنگ ہوتی رہے گی، اور پھر وہ خود آپس میں بات چیت کے ذریعے کسی انتظام پر متفق ہوں گے۔ ہم بات کر رہے ہیں کہ یمن میں اعلیٰ ترین سطحوں پر اقتدار کی تقسیم کے سوال پر سودے بازی ہوگی۔

یمن کے نائب صدرعبد الرب منصور ہادی
یمن کے نائب صدرعبد الرب منصور ہادی

باربرا بوڈن کہتی ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکی عہدے داروں کو یمن میں تعلقات قائم کرنے کے لیئے سارا کام نئے سرے سے کرنا ہوگا۔ سرکاری عہدے داروں سے ، سول سوسائٹی میں، حزب اختلاف کی پارٹیوں کے ساتھ، ہمارے تعلقات قائم ہیں۔ لیکن ان سب لوگوں کو بھی نئے حالات میں طے کرنا ہوگا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں، ان کی ترجیحات کیا ہیں اور ہمیں اپنے طریقوں میں کیا ردو بدل کرنا ہو گا۔

آج کل عارضی طور سے اقتدار نائب صدر عبد الرب منصور ہادی کے پاس ہے۔ لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ وہ ایک طویل عرصے سے مسٹر صالح کے قریبی ساتھی رہے ہیں اور انھوں نے ہی 1994 میں انہیں نائب صدر مقرر کیا تھا ۔ اس وجہ سے اُن کا صدر کے عہدے پر ٹکے رہنامشکل معلوم ہوتا ہے۔ اگر مسٹر صالح نے استعفیٰ د ے دیا، تو یمن کے آئین کے تحت ، اگلے 60 دنو ں میں نئے صدر کے لیئے انتخاب کرانا ہوگا ۔

XS
SM
MD
LG